مذہب کی جبری تبدیلی پرقانون کی منظوری

ہندو شادی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس قانون پر عملدرآمد اور نگرانی کے لیے حکومت خاص کمیشن یا کمیٹی قائم کرے گی

پاکستان کی سندھ اسمبلی نے مائنارٹیز بل 2016 کثرت رائے سے منظور کرلیا ہے جس کے تحت جبری مذہب کی تبدیلی اور معاونت پر تین سے پانچ سال قید کی سزا ہوسکتی ہے جبکہ مقدمات کی سماعت کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی۔

مسلم لیگ فنکشنل کے اقلیتی رکن نند کمار گوکلانی نے جبری مذہب کی تبدیلی کے خلاف بل پیش کیا جو صوبائی وزیر اقلیتی امور ڈاکٹر کھٹو مل نے پڑھ کر سنایا اور کہا کہ اقلیتوں کو جبری مذہب کی تبدیلی کے لیے مجبور کیا جاتا رہا ہے اور نوعمر لڑکیوں کو ورغلا کر مذہب تبدیل کرنے کے معاملات عام ہیں۔

اس بل کے مطابق اگر کوئی صغیر (کم سن) یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے مذہب تبدیل کرلیا ہے تو اس کی دعوے کو قبول نہیں کیا جائے گا تاہم صغیر کے والدین یا کفیل اپنے خاندان کے سمیت مذہب تبدیل کرنے کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ مذہب کی جبری مختلف حوالوں سے ہوگی اس کو صرف جبری شادی یا جبری مشقت تک محدود نہیں سمجھا جائے گا۔

اس بل میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی کا جبری مذہب تبیدل کرنے کا الزام ثابت ہوجاتا ہے تو ملزم کو پانچ سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی جائے گی اور یہ جرمانہ متاثرہ فریق کو دیا جائے گا۔

اس بل میں جبری مذہب کی تبدیلی میں سہولت کاری کو بھی جرم قرار دیا گیا ہے، جس کے مطابق اگر کوئی شخص جس کو معلوم ہے کہ ایک فریق یا دونوں فریقین کا مذہب جبری تبدیل کیا گیا ہے اور وہ شادی میں معاونت یا سہولت فراہم کرتا ہے تو وہ بھی سزا کا مستحق ہوگا اس کو تین سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی جائے گی اس کے علاوہ شادی کا انتظام کرنے، مولوی اور دیگر سہولتوں کاروں کو بھی شریک جرم تصور کیا جائے گا۔

اس بل میں بتایا گیا ہے کہ زبردستی مذہب کی تبدیلی کے مقدمے میں سندھ چائلڈ میریج ایکٹ ، پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 498، 375، 376، 365 اور 361 کو بھی شامل رکھا جائے گا اس کے علاوہ جبری مشقت کے خاتمے کے قانون کی شقیں بھی اس قانون میں شامل ہوں گی۔

بل میں شکایت کا نظام بھی واضح کیا گیا ہے۔ جس کے تحت متاثر فرد یا باخبر شخص عدالت میں درخواست دے سکتا ہے، عدالت یہ درخواست موصول ہونے کے سات روز کے اندر تاریخ مقرر کرے گی اور ملزم کو طلب کرکے جواب طلبی کرے گی اور یہ مقدمہ 90 روز کے اندر نمٹایا جائے گا۔

جبری مذہب کی شکایت عدالت کے علاوہ پولیس کے پاس بھی درج کی جاسکتی ہے۔ کوئی بھی پولیس افسر جس کو یہ شکایت موصول ہوئی ہے کہ کسی فرد کا جبری مذہب تبدیل کیا گیا ہے تو وہ اس شخص کو تحویل میں لینے کے 24 گھنٹے کے اندر عدالت میں پیش کرے گا۔

کسی نابالغ فرد کی صورت میں حتمی فیصلہ عدالت کرے گی کہ وہ صغیر ہے یا بالغ۔ عدالت مطمئن ہونے کے بعد اس کو والدین کے سپرد کرے گی اس وقت تک اس فرد کو تحفظ فراہم کرنے والے ادارے کے حوالے کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اگر کسی کا جبری مذہب تبیدل کرنے کا الزام ثابت ہوجاتا ہے تو ملزم کو پانچ سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی جائے گی

بل میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر مذہب کسی بالغ شخص سے شادی کی وجہ سے ہوا ہے تو اس متاثر فرد کو عدالتی کے فیصلے تک شیلٹر ہوم میں رکھا جائے گا۔ جبکہ متاثر شخص رضاکارانہ طور پر بیان دے کر اپنے والدین ، سرپرست ، شوہر یا شادی کے خواہشمند شخص سے ملاقات کرسکتا ہے۔ لیکن یہ ملاقات چائلڈ پروٹکشن محکمے کے حکام یا عدالت کی موجودگی میں ہوگی۔

بل میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی بالغ شخص کی مذہب تبدیل کرنے کے بارے میں فیصلےسے قبل عدالت فریق کو 21 روز کی مہلت دے گی تاکہ وہ فیصلے پر نظر ثانی کرسکے اور اس کو مذہب کے مطالعے کا بھی موقعہ فراہم کیا جائے گا۔ اگر کسی ملزم پر یہ الزام ثابت ہوجاتا ہے کہ شادی کے ذریعے مذہب تبدیل کیا گیا ہے تو فوری طلاق ہوجائے گی۔

اس قانون پر عملدرآمد اور نگرانی کے لیے حکومت خاص کمیشن یا کمیٹی قائم کرے گی، جس کے لیے اضافی بجٹ، انفراسٹریکچر، وسائل اور عملہ فراہم کیے جائیں گے جبکہ تک قانون کے تحت مجاز عدالتیں اور کمیشن کا نوٹیفیشکن جاری نہیں کیا جاتا اس وقت تک خصوصی عدالتیں جبری مذہب کی تبدیلی کے مقدمات کی سماعت کرنے کی پابند ہوں گی۔

رکن صوبائی اسمبلی نند کمار گوکلانی نے تمام سیاسی جماعتوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ بل اقلیتوں کے تحفط کی ضمانت ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں