اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے خلاف وکلا کا مظاہرہ

اسلام آباد ہائی کورٹ

وکلا برادری نے دھمکی دی ہے کہ اگر اسلام آباد ہائی کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس ایک ہفتے کے اندر اندر اپنے عہدے سے مستعفی نہ ہوئے تو پورے ملک میں احتجاج ہو گا۔

وکلا برادری نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس انور کاسی کے خلاف مظاہرہ کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے عہدے سے مستفی ہو جائیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی کال پر سینکڑوں وکلا سپریم کورٹ کے باہر جمع ہو گئے اور اُنھوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے خلاف نہ صرف نعرے بازی کی بلکہ اُن کے استعفے کا بھی مطالبہ کیا۔

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ پاکستان میں کسی موجودہ چیف جسٹس کے خلاف وکلا نے نہ صرف مظاہرہ کیا ہے بلکہ اُن کے مستعفی ہونے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

اس سے پہلے 2007 میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں وکلا تحریک کے دوران عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف اُٹھانے والے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے خلاف مظاہرہ کرتے رہے ہیں تاہم یہ مظاہرے ضلعی عدالتوں کے احاطے میں ہی ہوتے تھے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے ایک بینچ نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں قواعد و ضوابط سے ہٹ کر ہونے والی بھرتیوں کے خلاف فیصلہ دیا تھا۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے میں انور کاسی کے بھائی ادریس کاسی کا بھی ذکر کیا گیا تھا جنھیں اُنیسویں گریڈ میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ڈپٹی رجسٹرار تعینات کیا گیا ہے جبکہ مبینہ طور پر وہ اس عہدے کے لیے زائد العمر ہونے کے ساتھ ساتھ تعلیمی قابلیت پر بھی پورا نہیں اُترتے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری وقاص ملک کا کہنا تھا کہ اگر وکلا کے مظاہرے کی وجہ سے اسلام آباد ہائی کورٹ کو بند کیا گیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس پر ہو گی۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے جج اقبال حمید الرحمٰن گذشتہ مہینے اپنے عہدے سے ریٹائر ہو گئے تھے اور وہ سپریم کورٹ کا جج تعینات ہونے سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے۔ صدر کو بھیجے گئے استعفے میں اقبال حمیدالرحمن نے ذاتی وجوہات کا ذکر کیا ہے، تاہم قانونی ماہرین کا کہنا تھا کہ اُن کے دور میں بھی قواعد و ضوابط سے ہٹ کر بھرتیاں کی گئی تھیں۔

مظاہرین نے پاکستان کے موجودہ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ریٹائرمنٹ سے پہلے اُن تمام ریفرنس کا فیصلہ سنائیں، جو اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے خلاف دائر کیے گئے ہیں۔ انور ظہیر جمالی 31 دسمبر کو اپنے عہدے سے ریٹائر ہو رہے ہیں۔

مظاہرین نے سپریم کورٹ کے احاطے میں بھی جانے کی کوشش کی لیکن وہاں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی جس کی وجہ سے وکلا سپریم کورٹ کے احاطے میں نہ پہنچ سکے۔

اسی بارے میں