جنوبی وزیرستان سے پولش کمپنی کے چھ ملازمین اغوا

پولیس

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

تحصیل دار کے مطابق کمپنی کے سات کو ملازمین کو نامعلوم افراد اپنے ساتھ لے گئے تھے تاہم بعد میں ان کے ڈرائیور کو چھوڑ دیا گیا

پاکستان میں وفاق کے زیرانتظام علاقے ڈیرہ اسماعیل خان فرنٹیئر ریجن میں حکام کے مطابق تیل اور گیس کی تلاش کرنے والی ایک پولش کمپنی کے چھ ملازموں کو نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان فرنٹیئر ریجن کے تحصیل دار ساجد سلیم نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ پولینڈ کی کمپنی جیوفزکا کراکو کے چھ ملازمین کو جنوبی وزیرستان کے علاقے کرم نالہ سے 30 سے زائد مسلح افراد نے اغوا کر لیا ہے۔

تحصیل دار کے مطابق کمپنی کے سات کو ملازمین کو نامعلوم افراد اپنے ساتھ لے گئے تھے تاہم بعد میں ان کے ڈرائیور کو چھوڑ دیا گیا۔

تحصیل دار ساجد سلیم کے مطابق پولش کمپنی کے ملازمین ڈیرہ اسماعیل فرنٹیئر ریجن میں تیل اور گیس کی تلاش کا کام کر رہے تھے جب وہ غلطی سے جنوبی وزیرستان کے علاقے میں داخل ہوگئے۔

پولینڈ کی وزارت خارجہ کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری کردہ پیغام میں کہا گیا ہے کہ مغوی ملازمین میں کوئی پولش شہری شامل نہیں اور اسلام آباد میں پولینڈ کا سفارت خانہ صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے۔

خیال رہے کہ تیل اور گیس کی تلاش کرنے والی پولش کمپنی جیوفزیکا کراکو عرصہ دراز سے پاکستان میں کام کر رہی ہے۔

سنہ 2008 میں پاکستانی طالبان نے اسی کمپنی کے ایک پولش انجیئر کو اٹک کے قریب سے اغوار کر لیا تھا اور کئی ماہ بعد تحویل میں رکھنے کے بعد انھیں قتل کردیا تھا۔