پیرس ہلٹن کے ساتھ سیلفی کا موقع کون گنوائے گا؟

بلاول بھٹو تصویر کے کاپی رائٹ AP

کون ہوگا جسے اگر پیرس ہلٹن کے ساتھ سیلفی بنانے کا موقع ملے اور وہ نہ بنائے؟ شاید کوئی مجھ جیسا کھڑوس ہی ہو جو نہ بنائے ورنہ آج کے سیلفی زمانے میں تو لوگ اپنے تیتر بٹیر کے ساتھ سیلفی کا موقع بھی ضائع نہیں ہونے دیتے۔

بلاول بھٹو زرداری چونکہ کھڑوس نہیں ہیں اس لیے انھوں نے سیلفی بنا ڈالی، اور کیا سیلفی بنائی ہے؟ وہ بہت ہی ہینڈ سم لگ رہے ہیں۔ ظاہر ہے پیرس ہلٹن سے ذرا کم، لیکن کافی ڈیشنگ۔

بس پھر کیا تھا، بلاول کی پیرس کے ساتھ یہ تصویر چھپتے ہی سوشل میڈیا پر طوفان بپا ہوگیا۔ کسی نے کہا دیکھا ہم نہ کہتے تھے یہ شخص سیاست کے لائق نہیں، کسی نے پکارا کہ اس کا لبرل ازم ظاہر ہوگیا اور کسی نے لقمہ دیا کہ دونوں میں سے پیرس ہلٹن کون ہے۔

ایک نامور سینیئر پاکستانی صحافی نے ٹوئٹر پر بلاول اور پیرس کی تصویر چھاپنے کے ساتھ طنزاً کہا "بلاول بھٹو زرداری کی لبرل ازم کا ایک اور رخ۔"

ایک دوسرے ٹوئٹراٹی نے لکھا، ’کیا سیلفی کے ساتھ سیکس ٹیپ کی کاپی بھی ملی ہے؟‘

لیکن بلاول زرداری کو کریڈٹ ملنا چاہیے کہ انھوں نے ہر طرح کے جائز ناجائز تبصروں کو نہ صرف برداشت کیا بلکہ بعض کو مودبانہ جوابات بھی دیے۔ مثال کے طور پر انھوں نے بہت ہی سینیئر صحافی کی خدمت میں عرض کیا،’انکل کچھ لوگوں نے لبرل ازم کو گالی بنادیا ہے، میں نہ صرف لبرل ازم کا ایک رخ ہوں بلکہ ایک پراؤڈ اور روشن خیال پاکستانی ہوں۔"

پیرس ہلٹن ایک امیر امریکی خاتون ہیں جو کہ دنیا بھر میں قائم ہلٹن ہوٹلز کے وارثوں میں شامل سے ہیں۔ ان کے دادا نے ہلٹن ہوٹلز کی بنیاد رکھی تھی۔ وہ خود کاروباری خاتون ہونے کے ساتھ ساتھ ٹی وی شخصیت، نغمہ نگار، اداکارہ، ریئیلٹی ٹی وی سٹار اور گلوکارہ بھی ہیں۔ وہ مصنفہ بھی ہیں اور تقریباً تیرہ برس قبل ان کا اس وقت کے بوائے فرینڈ کے ساتھ ایک سیکس ٹیپ بھی منظر عام پر آیا تھا جس سے انہیں راتوں رات بے پناہ شہرت ملی۔

مختصراً یہ کہ ان میں وہ تمام خوبیاں ہیں اور انھوں نے تمام وہ کام کیے ہیں جن کی بنیاد پر وہ پاکستان میں واجب القتل قرار دی جاسکتی ہیں۔ اب ایسی خاتون کے ساتھ مسکرا مسکرا کر سیلفی بنانے کا بلاول بھٹو زرداری کا مطلب کیا تھا؟ خود ہی انھوں نے کہا کہ آ بیل مجھے مار۔ اور ان دنوں بیلوں نے سوشل میڈیا کو اپنا مسکن بنایا ہوا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری تنقید سے مبرا نہیں۔ ان کی جماعت، ان کی جماعت کے کئی سرکردہ رہنما، ان کے وزرا اور مشیران کی کارکردگی ان پر لگنے والے کرپشن کے الزامات۔ غرض یہ کہ کئی ایسے معاملات ہیں جن کی بنیاد پر پیپلز پارٹی اور بلاول بھٹو زرداری کو آڑے ہاتھوں لیا جاسکتا ہے ۔ لیکن سیلفی پر؟ پیرس ہلٹن کے ساتھ تصویر پر؟ یہ تو صرف وہی کر سکتے ہیں جن کی زندگی کا اہم ترین فریضہ بس عورتوں کو اس گندے معاشرے سے بچانے اور باقی معاشرے کو عورتوں سے بچانے کی فکر لاحق ہو۔ یا ایسے جن کو پیپلز پارٹی سے اس لیے نفرت ہے کیونکہ وہ اس جماعت اور اس کے زندہ یا مرے ہوئے رہنماؤں کو سچا مسلمان اور پکا پاکستانی نہیں مانتے۔

ایسے لوگوں کے لیے پیرس ہلٹن تو کیا اگر بلاول کی مختاراں مائی کے ساتھ بھی تصویر ہو تو ملک کو لبرل ازم سے خطرہ ہوجائے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں