’تم تو مجھے جانتے ہو کہ میں کیا کروں گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption تقریب کے اختتام کے بعد جنرل قمرجاوید باجوہ نے شرکا میں گھل مل کر گفتگو کی

’گُڈ لک جنرل‘، ان الفاظ کے ساتھ سبکدوش ہونے والے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ملاکا کین نامی طاقت کی چھڑی برّی فوج کے نئے سربراہ کے حوالے کر دی ۔ کمان کی تبدیلی کی تقریب میں پاکستانی فوج کے ان دو جرنیلوں کے کئی پرانے ساتھی بھی جنرل ہیڈ کوارٹرز کے ہاکی گراؤنڈ میں جمع تھے۔

تین سال قبل بالکل ایسی ہی ایک تقریب میں وزیر دفاع خواجہ آصف کو مناسب جگہ نہ ملنے پر فوج کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ مگر اس بار وہ روسٹرم کے عین سامنے براجمان تھے۔ سیاہ شیروانی اورجناح کیپ پہنے سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پروز کیانی کو دیکھ کر وقت کی بے ثباتی کا احساس غالب آتا تھا۔

آرمی ہاکی گراؤنڈ میں ان دو اینکلوژرز میں جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ کورس کرنے والے افسران بیٹھے تھے۔ جن میں سے بیشتر عرصہ دراز سے ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے ہیں۔

جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کے کئی ساتھی افسردہ بھی تھے۔ ان کے ایک کورس میٹ کرنل ریٹائرڈ منظور حسین نے کہا کہ ’ہم سب کے دل دکھی ہیں, مگر خوشی ہے کہ راحیل شریف نے پوری فوج کے مفاد میں فیصلہ کیا، فوج کی تکریم میں اضافہ کیا۔‘

ایک کورس میٹ نے بتایا کہ جب بھی جنرل راحیل شریف سے یہ کہا کہ وقت پرریٹائرمنٹ لینا تو ہمیشہ ایک ہی جواب سننے کو ملا کہ ’تم تو مجھے جانتے ہو کہ میں کیا کروں گا۔‘

جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کی میڈیا پراجیکشن کے حوالے سے سوال پر کرنل ریٹائرڈ عظیم اللہ نے کہا کہ ’یہ تاثر سراسر غلط ہے کہ راحیل شریف کو میڈیا پراجیکشن کی خواہش تھی، ایسا ہرگز نہیں، ہم جانتے ہیں کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کے کئی ساتھی افسردہ بھی تھے

مگر یہاں نئے آرمی چیف کے62 ویں لانگ کورس کے ساتھی خاصے خوش تھے، اس لانگ کورس سے تعلق رکھنے والے دو افسران اس وقت پاکستانی فوج میں فور سٹار جنرلز، پانچ افسران لیفٹیننٹ جنرلز جبکہ سات میجر جنرل کے عہدوں پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کے پی ایم اے کے ساتھی میجر ریٹائرڈ ایاز رسول نے کہا کہ نئے آرمی چیف کے کندھوں پر بھاری ذمہ داریاں ہیں, مگر وہ ان چیلنجز سے نمٹنا بھی خوب جانتے ہیں۔ ’جنرل باجوہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا تسلسل نہیں ٹوٹنے دیں گے اور جنرل راحیل سے بھی آگے نظر آئیں گے۔‘

سیاست سے متعلق نئے آرمی چیف کے خیالات کا ذکرکرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’جنرل قمر باجوہ ایک غیر سیاسی شخصیت ہیں اور فوج کو سیاست سے الگ رکھنے کے حامی ہیں۔‘

جنرل قمر جاوید باجوہ کے ایک اور ساتھی میجر فرحت کیانی نے کہا کہ وہ ایک ’گراؤنڈ کمانڈر‘ ہیں، کشمیر کا معاملہ ہو یا اندرونی سیکیورٹی کے معاملات، ’نئے آرمی چیف درست سمت منتخب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption سبکدوش ہونے والے جنرل راحیل شریف کو الوداعی گارڈ آف آرنر پیش کیا گیا

کمان کی تبدیلی کی اس تقریب میں پاکستانی فوج کے اعلیٰ افسران کے علاوہ وفاقی وزرا، سفارت کار, میڈیا کے نمائندے اور ملک کی نمایاں شخصیات مدعو تھیں۔

تقریب کے اختتام کے بعد جنرل قمرجاوید باجوہ شرکا میں گھل مل گئے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بھی غیر رسمی بات چیت کی اور کہا کہ فوج کا مورال بلند رکھنے کے لیے میڈیا کو مثبت کردار ادا کرنا چاہیے اور مایوسی اور پریشانی پھیلانے سے گریز کرنا چاہیے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں