پاکستان میں ایک لاکھ افراد ایڈز سے متاثرہ: اقوام متحدہ

ایڈز تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان میں تقریباً ایک لاکھ افراد ایچ آئی وی مرض سے متاثر ہیں جن میں سے تیس ہزار عورتیں شامل ہیں۔ ان متاثرہ خواتین میں حاملہ بھی ہیں جنہیں مدد کی ضرورت ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں جمعرات کو ایچ آئی وی ایڈز کے خلاف آگہی بڑھانے کے لیے عالمی دن منایا گیا۔

پاکستان کی وزرات صحت کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں صرف 17 ہزار مریضوں نے ایڈز کنٹرول پروگرام میں اپنا اندراج کیا ہوا ہے جہاں انہیں باقاعدہ علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔ تاہم زیادہ تر مریض 'معاشرتی رویے یا شرم' کی وجہ سے سامنے نہیں آتے جس سے ان مریضوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

ملک کی دیگر شہروں کی طرح پشاور میں بھی ایڈز کے خلاف عالمی دن کی مناسبت سے مـختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔

اس ضمن میں مختلف تنظیموں کی طرف سے پشاور کے مقامی کالج میں ایک آگاہی سیمنار کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف تعلیمی اداروں کی طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

سمینار سے خِطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال آبادی کے ساتھ ساتھ ایڈز سے متاثرہ مریضوں کی تعداد بھی تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے۔

سیمنار میں شریک نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر ایم ایوب روز نے کہا کہ رواں برس حکومت نے خون سے متعلق بیماروں یعنی ایچ آئی وی ایڈز ، تھیلی سیمیا اور ہیپاٹائٹیس کی روک تھام کے لیے بجٹ میں 50 کروڑ روپے مختص کیے ہیں جس سے عوام کو تشخیص اور علاج کی سہولیات فراہم کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت صوبے کے سات ڈویژنوں میں ایڈز کنٹرول سنٹر قائم کیے جائیں گے جہاں مریضوں کو علاج معالجے اور تشخیص کے سلسلے میں سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

انھوں نے کہا کہ صوبے کے بڑے شہروں پشاور اور کوہاٹ میں پہلے ہی سے دو سینٹر کام کر رہے ہیں جہاں ایچ آئی وی سے متاثرہ مریضوں کا علاج ہو رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دنیا بھر میں ایچ آئی وی سے متاثرین کی سب سے بڑی تعداد جنوبی افریقہ میں ہے

نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے مطابق خیبر پختونخوا میں پشاور ایڈز کی مریضوں کی تعداد کے لحاظ پہلے نمبر پر ہے جہاں 432 مریضوں میں اس مرض کی تشخیص ہو چکی ہے جبکہ بنوں، دیر اور کوہاٹ بالترتیب دوسرے، تیسرے اور چوتھے نمبر پر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قبائلی علاقوں میں شمالی وزیرستان واحد ایجنسی ہے جہاں ایڈز سے متاثرہ مریضوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے اور جہاں رواں برس 133 مریضوں میں اس مرض کی تشخیص ہوئی ہے۔

دنیا بھر میں ایچ آئی وی سے متاثرین کی سب سے بڑی تعداد جنوبی افریقہ میں ہے۔

یہاں روزانہ ایک ہزار افراد ایچ آئی وی سے متاثر ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس کے علاج کے لیے یہاں ایک نئی ویکسین تجرباتی عمل سے گزر رہی ہے۔

ایچ ٹی وی این سیون زیرو ٹو (702) نامی یہ پروگرام اپنی نوعیت کا سب سے بڑا تجربہ ہے جس میں پانچ ہزار چار سو ایسے مرد و خواتین حصہ لے رہے ہیں جو جنسی طور پر متحرک ہیں۔

اس ویکسین کی بنیاد 2009 میں تھائی لینڈ میں کیے گئے تجربوں پر ہے جس میں بچاؤ کی شرح 30 فیصد تھی۔ اب ماہرین پر امید ہیں کہ نیا تجربہ ایچ آئی وی کے خاتمے کا سبب بن سکےگا۔

اگر تحقیق کامیاب ثابت ہوئی تو نئی ویکسین چار سال میں تیار ہو سکے گی اور دنیا کے باقی ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی متاثرین کے لیے امید کی کرن ثابت ہو گی۔

اسی بارے میں