فوجی آپریشن کے باعث بے گھر ہونے والے 70 ہزار خاندان واپسی کے منتظر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت قبائلی علاقوں کے کوئی 70 ہزار خاندان خیموں اور عارضی رہائش گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کے نتیجے میں نقل مکانی کرنے والے تقریباً 70 ہزار خاندان اب تک اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکے ہیں۔

ان متاثرین میں زیادہ تعداد شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والوں کی ہے جبکہ حکومت نے اس تاخیر کی کوئی وجہ نہیں بتائی ہے۔

آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں شمالی وزیرستان کے ایک لاکھ سے زیادہ خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے لیکن اب تک 68 ہزار خاندان واپس جا چکے ہیں اور تقریباً 35 ہزار خاندان اب بھی خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

ایف ڈی ایم اے کے حکام کا کہنا ہے کہ تمام متاثرین کی واپسی 31 دسمبر تک ممکن نہیں ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ اس بارے میں کوششیں جاری ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت قبائلی علاقوں کے تقریباً 70 ہزار خاندان خیموں، کیمپوں اور عارضی رہائش گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان میں 35 ہزار سے زیادہ خاندان شمالی وزیرستان اور 24 ہزار سے زائد خاندان جنوبی وزیرستان سے ہیں۔

فاٹا ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کے حکام نے بتایا کہ کرم ایجنسی کے لگ بھگ چار ہزار، اورکزئی ایجنسی کے تین ہزار اور خیبر ایجنسی کے ڈھائی ہزار خاندان دیگر شہروں دیہاتوں اور کیمپوں میں متاثرین کی زندگی گزار رہے ہیں۔

شمالی وزیرستان ایجنسی سے تعلق رکھنے والے قبائلی رہنما ملک غلام خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد چاہے وہ بے گھر ہیں یا اپنے گھروں کو واپس چلے گئے ہیں دونوں صورتوں میں پِس رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’شہروں میں لوگوں کے پاس گھروں کے کرائے نہیں ہیں خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں، امداد بھی انھیں بہت تاخیر سے ملتی ہے اور اگر اپنے گھروں کو جاتے ہیں تو وہاں نہ تعلیم ہے نہ صحت کی سہولیات، پینے کے پانی کی کمی ہے اور گھروں سے باہر نکلنے پر پابندی، تو ایسی حالت میں وہ جائیں تو جائیں کہاں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شمالی وزیرستان ایجنسی میں فوجی آپریشن ضرب عضب جون سال 2014 میں شروع کیا گیا تھا

ان کے بقول انھیں بتایا گیا تھا کہ تمام قبائلی 31 دسمبر تک اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں گے لیکن ایسا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔

ملک غلام خان کے مطابق آپریشن کی وجہ سے افغانستان کی جانب نقل مکانی کرنے والے افراد کی واپسی کے لیے ابھی تک حکومت نے کوئی اقدامات نہیں کیے اور ان کے لیے واپسی کے راستے بند کیے گئے ہیں۔

ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ ان متاثرین کی واپسی میں تاخیر کی ایک وجہ ان علاقوں کی صورتحال ہے جہاں اب بھی کشیدگی پائی جاتی ہے جبکہ دوسری بڑی وجہ فنڈز کی کمی بتائی جاتی ہے۔

شمالی وزیرستان ایجنسی میں فوجی آپریشن ضرب عضب جون سال 2014 میں شروع کیا گیا تھا جبکہ جنوبی وزیرستان کا آپریشن راہ نجات سال 2009 سے جاری ہے۔

خیبر ایجنسی میں مختلف اوقات میں فوجی آپریشن کیے گئے جبکہ اورکزئی اور کرم ایجنسی میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں