’کوہستان قتل کیس میں فورنزک طریقہ کار استعمال کریں‘

Image caption خدشہ ہے کہ ویڈیو میں موجود لڑکیوں اور لڑکوں کو مارا جا چکا ہے

پاکستان میں چار سال قبل مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل ہونے والی پانچ لڑکیوں کے کیس سے متعلق دوسرا کمیشن بھی کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے میں ناکام رہا ہے اور اس نے تجویز پیش کی ہے کہ جامع تحقیقات کے لیے حکومتی ایجنسیاں فورنزک طریقہ کار استعمال کریں۔

کمیشن نے اپنی رپورٹ میں اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ پانچوں لڑکیاں یا تو قتل کی جا چکی ہیں یا پھر اپنے علاقے کی روایات کو جانتے ہوئے جان پچانے کی خاطر وہاں سے فرار ہونے کے بعد لاپتہ ہیں۔

* 'کوہستان واقعے کی دوبارہ تحقیقات پر نوٹس جاری'

خیال رہے کہ سنہ 2012 میں صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کوہستان کے گاؤں غدر پلاس میں ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں لڑکوں کے رقص کرنے پر پانچ لڑکیوں کو تالیاں بجاتے ہوئے دکھا گیا تھا، جنھیں مبینہ طور پر مقامی جرگے کے فیصلے کی روشنی میں قتل کر دیا گیا۔

درخواست گزار افضل کوہستانی کا دعویٰ ہے کہ لڑکیوں کے علاوہ اُن لڑکوں کو بھی قتل کر دیا گیا ہے جنھوں نے شادی میں رقص کیا تھا۔

پاکستان کے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے واقعے کا ازخود نوٹس لیا تھا اور ایک کمیشن تشکیل دیا گیا تھا تاہم درخواست گزار کا کہنا ہے کہ کمیشن کے سامنے پیش کی جانے والی لڑکیاں کوئی اور تھیں۔

رواں برس موجودہ چیف جسٹس نے اس کیس کے لیے ایک اور کمیشن تشکیل دیا جسے حکم دیا گیا کہ وہ علاقے کا دورہ کریں۔

سیشن جج کی سربراہی میں ڈی پی او کوہستان، ڈی ایس پی ہری پور اور آر پی اور ہزارہ ڈویژن کے ہمراہ ایک خاتون پولیس افسر نے علاقے کا دورہ کیا۔

کمیشن کی جانب سے سپریم کورٹ میں پیش کی جانے والی تحریری رپورٹ میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ان کے سامنے پیش کی جانے والی لڑکیاں ویڈیو میں نظر آنے والی لڑکیاں نہیں ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ درخواست کے باوجود پیش کی جانے والی لڑکیوں کے اہلِ خانہ نے ان کی ویڈیو بنانے کی اجازت نہیں دی۔

موجودہ کمشین نے سابقہ کمیشن کے برعکس صرف لڑکیوں کے بیانات پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق کے لیے نادرا سے خدمات بھی لیں اور لڑکیوں کے والد کے نام نادرا کو دے کر 'فیملی ٹری' بنوایا گیا۔

اگرچہ لڑکیوں نے بیانات میں انکار کیا کہ ان کے شناختی کارڈز بن چکے ہیں تاہم دو لڑکیوں سیران جان اور بازیغہ کا ریکارڈ نادرا کے پاس سے مل گیا ہے اور انھوں نے سنہ 2011 میں شناختی کارڈ بنوائے تھے۔

بائیومیٹرک تصدیق کے لیے لڑکیوں کو پٹن جانے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ جس کے بعد کمیشن نے سابقہ کمشین کے شواہد اور پولیس کے پاس موجود کوائف کو دیکھا۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ بظاہر کوئی بھی لڑکی شادی شدہ نہیں لگ رہی تھی اور اس کی تصدیق طبّی شواہد سے ہی ہو سکتی ہے۔ باوجود ہدایات کے لڑکیوں کے خاندان کے افراد اور ان کے شوہر وہاں موجود نہیں تھے جس سے کمیشن نے شک کا اظہار کیا ہے کہ اس معاملے میں کچھ گڑبڑ ہے۔

رپورٹ کے مطابق امینہ نامی لڑکی کے دونوں انگوٹھے جلے ہوئے تھے اور پوچھنے پر اس نے بتایا کہ باورچی خانے میں کام کرتے ہوئے جلے ہیں۔

عدالت کو بتایا گیا کہ سیران جان نہ تو خود اور نہ ہی ان کے والد کمیشن کو اپنی بیٹی کی عمر کے بارے میں کچھ بتا سکتے۔ ’بظاہر اس کی عمر 16 سے17 برس سے زیادہ نہیں تھی جبکہ نادرا کے ریکارڈ کے مطابق اس کی پیدائش سنہ 1993 میں ہوئی یعنی اس کی عمر 23 برس ہے۔‘

یہ بھی بتایا گیا کہ سیران ویڈیو میں واضح طور پر نظر نہیں آرہیں اس لیے ان کی تصویر کے ساتھ موازنہ ممکن نہیں ہے۔

تحریری رپورٹ میں بتایا گیا کہ بیگم جان نامی لڑکی اپنی تصویر سے قدرے مشابہہ تھی تاہم ان کے چہرے پر موجود تل غائب تھا جس کے بارے میں وہ کہتی ہیں کہ وہ کاجل سے لگایا گیا تھا۔

کمیشن کے سامنے پیش کی جانے والی چوتھی لڑکی بازیغہ تھی جو تصویر میں موجود لڑکی سے مشابہت رکھتی تھیں۔ جبکہ پانچویں لڑکی شاہین نے جن پر ویڈیو بنانے میں معاونت فراہم کرنے کا الزام تھا، پوچھنے پر اپنی عمر 13 برس بتائی۔ لیکن ان کے لواحقین کی جانب سے مداخلت کر کے ان کی عمر 16 سال بتائی گئی۔

مبینہ طور پر ویڈیو میں ڈانس کرنے والے دونوں لڑکے علاقے سے بھاگ جانے میں کامیاب ہوگئے تھے تاہم ان کے تین بھائیوں کو لڑکیوں کے رشتہ داروں نے قتل کر دیا تھا۔

واضح رہے کہ جب یہ واقعہ منظرِ عام پر آیا تو جون 2012 میں حقائق جاننے کے لیے حکومت کی طرف سے ایک وفد کوہستان گیا تھا جس میں انسانی حقوق کے کارکن فرزانہ باری ،رفعت بٹ ،ڈاکٹر فوزیہ اور کمشنر ہزارہ ڈویژن خالد عمر زئی بھی شامل تھے۔

اس وفد نے واپسی پر عدالت کو بتایا تھا کہ شاہین سمیت دو خواتین سے ان کی ملاقات ہوئی جبکہ باقی تین خواتین بازغہ، بیگم جان اور شیرین جان سے دشوار گزار راستوں کی وجہ سے ملاقات نہیں ہو سکی۔

وفد کے ہمراہ جانے والے اس وقت کے کمشنر ہزارہ خالد عمر زئی نے عدالت کو بتایا تھا کہ ان کی اطلاع کے مطابق باقی تین خواتین بھی زندہ اور محفوظ ہیں۔

بعدازاں فرزانہ باری کی جانب سے ایسے بیانات سامنے آئے تھے کہ انھیں اطلاعات ملی ہیں کہ ان پانچوں لڑکیوں کو قتل کر دیا گیا ہے۔