قندیل بلوچ قتل کیس: تین ملزمان پر فردِ جرم عائد

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مذہبی رہنما مفتی عبدالقوی سمیت مقتولہ قندیل بلوچ کے تینوں بھائیوں عارف، اکرم اور اسلم شاہین کو بھی ملزمان کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے تاہم ان افراد کی گرفتاری ابھی تک عمل میں نہیں لائی گئی

صوبہ پنجاب کے شہر ملتان کی ایک مقامی عدالت نے سوشل میڈیا سلیبرٹی قندیل بلوچ کے قتل کے مقدمے میں گرفتار ہونے والے تین ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی ہے۔

اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے تینوں ملزمان نے جن میں مقتولہ کا بھائی وسیم، حق نواز اور عبدالباسط شامل ہیں، صحت جرم سے انکار کیا ہے۔

ان ملزمان کے خلاف قتل اور اعانت مجرمانہ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

اس مقدمے میں ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر جام صلاح الدین نے بی بی سی کو بتایا کہ ان تینوں ملزمان کو پولیس کے سخت پہرے میں مقامی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں پر پولیس کی طرف سے نامکمل چالان کی روشنی میں ان تینوں ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی گئی۔

عدالت نے پولیس کو آٹھ دسمبر تک اس مقدمے کا مکمل چالان پیش کرنے اور گواہوں کو پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

جام صلاح الدین کے مطابق پولیس کی طرف سے عدالت میں جمع کروائے گئے جواب میں ملتان سے ہی تعلق رکھنے والے مذہبی رہنما مفتی عبدالقوی سمیت مقتولہ قندیل بلوچ کے تینوں بھائیوں عارف، اکرم اور اسلم شاہین کو بھی ملزمان کی فہرست میں شامل کیا ہے تاہم ان افراد کی گرفتاری ابھی تک عمل میں نہیں لائی گئی۔

ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر کے مطابق عدالت نے اس مقدمے میں ایک اور ملزم ظفر کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔ ملزم ظفر کو پولیس نے گرفتار کیا تھا تاہم عدالت نے اُس کی ضمانت لے لی جس کے بعد پولیس حکام کے مطابق ملزم سعودی عرب فرار ہو گیا ہے اور جس کی واپسی ناممکن دکھائی دیتی ہے۔

ملزم اسلم شاہین پاکستانی فوج میں نائب صوبیدار ہے اور اس مقدمے کی تفتشی ٹیم نے اُسے پولیس کے سامنے پیش ہونے کے لیے متعدد بار نوٹس بھیجے لیکن وہ ایک بار بھی اس مقدمے کی تفتیش میں شامل نہیں ہوا۔

مقامی عدالت نے ان افراد کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے ہیں۔

دوسری طرف لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ نے اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے ملزم عبد الباسط کی ضمانت منظور کر لی ہے۔ ملزم عبد الباسط ٹیکسی ڈرائیور تھا اور اُس نے ملزمان وسیم اور حق نواز کو قندیل بلوچ کو قتل کرنے کے بعد فرار کروانے میں مدد کی تھی۔ عبدالباسط کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ مفتی عبدالقوی کا رشتہ دار ہے۔

واضح رہے کہ پولیس حکام کی طرف سے قندیل بلوچ کے قتل کے مقدمے کی تفتیش میں شامل متعدد پولیس اہلکاروں کو نہ صرف اس مقدمے سے الگ کر دیا گیا ہے بلکہ اُن کا تبادلہ دوسرے شہروں میں بھی کردیا گیا ہے۔

اسی بارے میں