’صرف ایک بچے کا بازو سلامت تھا‘

حادثہ تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption طیارے کے حادثے میں مرنے والوں کو ایبٹ آباد کے ہسپتال پہنچایا جا رہا ہے

ضلع ایبٹ آباد اور ضلع ہری پور کے سنگم پر واقع علاقے حویلیاں میں طیارے کے حادثہ کی اطلاع کے فوراً بعد عوام، امدادی کارکنوں اور ایمبولینسوں کا رخ متاثرہ علاقے کی جانب ہو گیا۔

مقامی صحافی محمد زبیر خان کے مطابق علاقے میں اس قدر بھیڑبھاڑ ہو گئی کہ دشوار گزار اور انتہائی تنگ راستہ کئی مرتبہ ٹریفک کے لیے بند ہوا اور امدادی کارکنوں کو بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

جائے حادثہ پر سب سے پہلے پہچنے والے لوگ حویلیاں کے گاؤں کریالہ اور بٹنولی کے رہائشی تھے۔ اس گاؤں کے تقریباً تمام ہی مرد و خواتین حادثے کے عینی شاہدین ہیں۔

علاقے کی مسجد کے امام مولانا سرفرار کا کہنا تھا کہ 'مغرب سے کچھ دیرقبل ہم نے آبادی کے اوپر طیارہ دیکھا، طیارہ ڈانواں ڈول ہو رہا تھا اور ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ ابھی آبادی پر گر پڑے گا۔ مگر میرے اور دیگر کئی لوگوں کے دیکھتے ہی دیکھتے طیارے نے رخ بدلا اور پہاڑ سے جا ٹکرایا۔ پہاڑ سے ٹکرانے کے بعد دھماکہ ہو ا اور ہر طرف آگ لگ گئی۔'

قریبی دیہاتوں کے مرد و خواتین دھماکے کی آواز سن کر جائے حادثہ کی طرف دوڑے اور ملبے میں لگی ہوئی آگ کو مٹی ڈال کر بجھاتے رہے۔

امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے گل نصیر کا کہنا تھا کہ 'حادثے کے 15 منٹ بعد میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ موقعے پر پہنچ گیا تھا، اب مسئلہ تھا کہ آگ کو کیسے بجھائیں، ہم اوڑھنے والی چادروں کے ساتھ مٹی آگ پر ڈالتے رہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'میں نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ جلی ہوئی لاشوں کے ٹکڑے اکٹھے کیے تھے۔ ان ٹکڑوں کو بھی اوڑھنے والی چادروں میں ڈالتے رہے تھے، کوئی بھی لاش محفوظ نہیں تھی تاہم جائے حادثہ سے کچھ دور ایک بچے کا بازو صحیح سلامت تھا۔‘

علاقے ہی کے ایک اور شخص جس نے امدادی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا، وہ سردار گل تھے۔

انھوں نے بتایا کہ 'طیارے میں موجود انسانوں سمیت سب کچھ جل کر راکھ ہو چکا تھا، مگر حادثے سے کچھ مقام پر مسافروں کے چپل، بوٹ وغیرہ پڑے ہوئے تھے، جن سے محسوس ہوتا تھا کہ شاید طیارہ تباہ ہوتے وقت دور جا گرے تھے جس وجہ سے جلنے سے بچ گے تھے۔'

اسی بارے میں