کراچی: ریجنٹ پلازہ ہوٹل میں آتشزدگی سے 12 افراد ہلاک

کراچی میں آتشزدگی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہلاک ہونے والوں میں چار خواتین بھی شامل ہیں

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پیر کی صبح شارع فیصل پر واقع ہوٹل میں آگ لگنے سے 12 افراد ہلاک جبکہ 79 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔

یہ حادثہ ریجنٹ پلازہ ہوٹل میں پیش آیا اور زخمیوں کو جناح ہسپتال کراچی میں داخل کروایا گیا ہے۔

٭ کراچی کے ہوٹل میں آتشزدگی: تصاویر

جناح ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق ہلاک شدگان میں آٹھ مرد اور چار خواتین شامل ہیں۔

ابتدائی معلومات کے مطابق آگ نچلی منزل پر موجود باورچی خانے میں لگی جس نے کچھ ہی دیر میں چھ منزلوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

آگ لگنے اور دھواں پھیلنے کی وجہ سے ہوٹل میں مقیم افراد وہیں محصور ہو گئے جنہیں ریسکیو ٹیمیوں نے بعد میں وہاں سے نکالا۔

ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ جائے وقوع پر ابتدائی امدادی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں اور آگ پر مکمل طور پر قابو پا لیا گیا ہے۔

فائر بریگیڈ حکام نے بتایا کہ آگ پر قابو پانے میں تین گھنٹے لگے۔

علی الصباح آگ لگنے کے بعد ہوٹل کی عمارت میں دھواں بھر جانے کی وجہ سے فائر بریگیڈ کے عملے کو مشکلات کا سامنا رہا تھا۔

جناح ہسپتال کے شعبہ حادثات کی انچارج ڈاکٹر سیمی جمالی نے بی بی سی کو بتایا کہ چار خواتین سمیت 12 افراد کو مردہ حالت میں ہسپتال لایا گیا تھا۔

ان کے مطابق 79 افراد زخمی حالت میں ہسپتال لائے گئے تھے جن میں اکثریت دھوئیں سے متاثر تھی اور کچھ افراد جنھوں نے کھڑکیوں سے باہر چھلانگ لگا کر اپنی جانیں بچانے کی کوشش کی تھی، انھیں چوٹیں لگی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Shakil Adil
Image caption مقامی ٹی وی چینلز پر حادثے کے مناظر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہوٹل کے کچھ مہمان ہوٹل کی مختلف منزلوں سے کھڑکیاں توڑ کر بیڈ شیٹوں کی مدد سے باہر نکلے۔

مقامی ٹی وی چینلز پر حادثے کے مناظر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہوٹل کے کچھ مہمان ہوٹل کی مختلف منزلوں سے کھڑکیاں توڑ کر بیڈ شیٹوں کی مدد سے باہر نکلے۔

ڈاکٹر سیمی جمالی نے بتایا کہ بیشتر افراد کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی کو حادثے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے حادثے میں جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے حکم دیا کہ شہر میں تمام ہوٹلز اور عمارتوں کی انسپیکشن کر کے رپورٹ دی جائے کہ ان عمارتوں میں ایمرجنسی گیٹ اور آگ بجھانے کا بندوبست ہے یا نہیں؟

ادھر کراچی کے ڈی آئی جی ضلع جنوبی آزاد خان نے بتایا ہے کہ ابھی تک اس واقعے میں دہشت گردی کے کوئی شواہد نہیں ملے۔

انھوں نے بتایا کہ آگ صرف نچلی منزل تک ہی محدود رہی مگر دھواں پوری عمارت میں بھر گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی کو حادثے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے

انھوں نے بتایا کہ فائر بریگیڈ کی جانب سے اس واقعے کے بارے میں رپورٹ آنے کے بعد ہی مزید کچھ کہا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب ہلاک ہونے والوں میں چار ڈاکٹرز بھی شامل ہیں جو اس ہوٹل میں ایک تربیتی پروگرام میں شریک ہونے کے لیے آئے تھے۔ ان ڈاکٹرز میں سے دو کا تعلق بلوچستان اور دو کا سندھ سے تھا۔

ان میں ڈاکٹر رحیم سولنگی ڈی ایچ او جھل مگسی تھے جبکہ ڈاکٹر حسن لاشاری کا تعلق بھی بلوچستان ہی سے ہے۔ دیگر دو ڈاکٹرز موہن لال اور ڈاکٹر شیر علی کا تعلق عمر کوٹ اور جامشورو سے ہے۔

اسی ہوٹل میں قائدِ اعظم ٹرافی کرکٹ ٹورنامنٹ کے میچ کے لیے یو بی ایل کی ٹیم کے کھلاڑی بھی ٹھہرے ہوئے تھے جو دھویں سے متاثر ہوئے ہیں۔ ان کھلاڑیوں میں صہیب مقصود بھی شامل ہیں جو عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ منتظمین نے قائدِ اعظم ٹرافی کا پیر کا میچ منسوخ کردیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں