پشین میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی، ’طالبان کمانڈر سمیت پانچ ہلاک‘

سرفراز بگٹی تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption وزیر داخلہ نے یہ دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی پولیس نے ایک خفیہ ادارے کے ساتھ مل کر کی جس میں پولیس کے دو اہلکار بھی زخمی ہوئے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان کے افغانستان سے متصل ضلع پشین میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں مارے جانے والے پانچ شدت پسندوں میں کالعدم تحریک طالبان کے ایک کمانڈر بھی شامل ہیں۔

یہ شدت پسند پیر کو ضلع کوئٹہ سے متصل پشین کے علاقے حرمزئی میں سکیورٹی فورسز کی ایک کارروائی میں مارے گئے تھے۔

وزیر داخلہ نے یہ دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی پولیس نے ایک خفیہ ادارے کے ساتھ مل کر کی جس میں پولیس کے دو اہلکار بھی زخمی ہوئے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ پانچوں افراد فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے۔

آزاد ذرائع سے ان افراد کی فائرنگ کے تبادلے میں ہلاکت کی تاحال تصدیق نہیں ہوئی۔

وزیر داخلہ نے ان افراد کی ہلاکت کو بڑی کامیابی قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مارے جانے والوں میں جہانگیر بادینی شامل تھے جو کہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے کمانڈر تھے۔

انھوں نے بتایا کہ جہانگیر بادینی ایک کالعدم تنظیم کے سربراہ تھے اور وہ آٹھ اگست کو سول ہسپتال کوئٹہ میں خود کش حملے کے ماسٹر مائنڈ تھے۔

یاد رہے کہ اس خود کش حملے میں 55وکلا سمیت 69 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

وزیر داخلہ نے بتایاکہ مارے جانے والوں میں سے تین کی شناخت ہوئی ہے جو کہ بلوچستان کے مقامی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں دولت اسلامیہ کا وجود نہیں بلکہ لشکر جھنگوی، تحریک طالبان، جماعت الاحرار اور اس طرح کی دیگر تنظیموں کا گٹھ جوڑ ہے جن کو ان کے بقول را اور این ڈی ایس کی حمایت حاصل ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں