ہارورڈ میں بینظیر بھٹو لیڈرشپ پروگرام کا آغاز

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکہ میں کلاس اچیونگ چینج نامی تنظیم نے کہا ہے کہ مسلمان ممالک میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے والے افراد کے لیے ہارورڈ یونیورسٹی نے بینظیر بھٹو لیڈرشپ پروگرام کا آغاز کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بینظیر بھٹو لیڈرشپ پروگرام (بی بی ایل پی) کا مقصد خواتین کو بااختیار بنانا ہے۔

یہ پروگرام کلاس اچیونگ چینج ٹو گیدر (Class Achieving Change Together ClassACT HR73) کی جانب سے کیا گیا ہے جو پاکستان کی سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے کلاس فیلوز نے بنائی ہے۔

اس پروگرام کا آغاز منگل کو کیا گیا اور اس حوالے سے ایک اجلاس کیا گیا جس کا موضوع تھا 'مسلمان ممالک میں قیادت: آج کے دور میں بینظیر کیا کرتیں؟'

بینظیر بھٹو لیڈرشپ پروگرام کے تحت مسلمان ممالک سے خواتین کو ترجیح دی جائے گی۔

اس پروگرام کی تکمیل کے بعد ان خواتین سے توقع کی جائے گی کہ وہ اپنے ملک واپس جائیں اور جو سیکھا ہے اس کے ذریعے سیاست یا سرکاری یا پرائیوٹ اداروں میں تبدیلی لائیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس پروگرام میں 2018 سے لوگ آنا شروع ہوں گے۔

واضح رہے کہ بینظیر بھٹو پاکستان کی دو مرتبہ وزیر اعظم رہ چکی ہیں اور ان کو 27 دسمبر 2007 کو پنجاب کے شہر راولپنڈی میں ایک خودکش دھماکے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس پروگرام کا مشاورتی بورڈ ابھی تیار کیا جا رہا ہے اور فی الحال اس میں بینظیر بھٹو کی بہن صنم بھٹو، کمل چین، سینیٹر ایل فرینکن، سابق سفیر پیٹر گیلبرتھ، کروئیشیا کی صدر کولنڈا گریبر اور سابق نائب گورنر کیتھلین کینیڈی شامل ہیں۔

متعلقہ عنوانات