پاکستان میں فضائی حادثات کی تاریخ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

راولپنڈی میں پیر اور منگل کی شب آرمی ایوی ایشن کا ایک چھوٹا طیارہ راولپنڈی کی حدود میں گر کر تباہ ہو گیا جس کے نیتجے میں پانچ فوجیوں سمیت کم از کم 19 افراد ہلاک ہو گئے۔

حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ پاکستانی فوج کا بیچ کرافٹ سی کنگ 350 طیارہ تھا جو دو پروں والے ٹربو پراپ طیارہ ہے اور یہ اپنی رسٹلٹی یعنی متنوع ساخت کی وجہ سے بہت کارآمد طیار ہے۔ دنیا بھر میں افواج یہ طیارے استعمال کرتے ہیں۔

پاکستان میں فضائی حادثات کی ایک لمبی تاریخ ہے اور اس میں سویلین اور اور فوجی طیارے دونوں شامل ہیں۔

ذیل میں ہم پاکستان میں فضائی حادثات کی تاریخ کا جائزہ لیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

راولپنڈی: فوجی طیارہ آبادی پر گر کر تباہ، 18 ہلاک

’بھائی، بھابھی، بھتیجا سب جل کر راکھ ہو گئے‘

راولپنڈی میں رہائشی علاقے پر طیارہ گرنے سے ہلاکتیں

اسلام آباد ایئرپورٹ پر پی آئی اے کے طیارے کو حادثہ

اس سال کا یہ دوسرا حادثہ ہے جہاں پہلا حادثہ جنوری میں بلوچستان کے علاقے مستونگ کے مقام پر ہوا۔ اس حادثے میں پاکستانی فضائیہ کا ایف سیون پی جی گر کر تباہ ہو گیا تھا۔

یاد رہے کہ فوجی طیارے ایف سیون پی جی کو سنہ 2002 میں پاکستان فضائیہ میں ایف سکس طیارے کے بعد متعارف کرایا گیا تھا۔ اب تک نو سے دس ایسے طیارے حادثات کا شکار ہو چکے ہیں لیکن فضائی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ حادثات نارمل حدود میں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

فروری سنہ 2017 میں فیصل آباد کے مقام پر شاہین ائیر فلائنگ ٹریننگ سکول کا طیارہ حادثے کا شکار ہوا۔ جس میں دونوں پائلٹ مارے گئے تھے۔

مئی سنہ 2017 میں پاکستانی فضائیہ کا جنگی طیارہ معمول کی تربیتی پرواز کے دوران میانوالی کے مقام پر گر کر تباہ ہوا جس میں طیارے کا پائلٹ ہلاک ہو گیا۔ طیارہ سبزہ زار علاقے کے قریب تباہ ہوا جس کی وجہ طیارے میں تنیکی خرابی بتائی گئی۔

اگست سنہ 2017 میں سرگودھا کے مقام پر پاکستان فضائیہ کا ایک طیارہ تباہ ہوا جس میں پائلٹ کو بچا لیا گیا۔

پاکستان میں پیش آنے والے فضائی حادثات کی تاریخ کچھ یوں ہے۔

دسمبر سنہ 2016 میں صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر چترال سے اسلام آباد آنے والا پی آئی اے کا ایک جہاز حویلیاں کے قریب گرکر تباہ ہو گیا تھا۔

حادثے کا شکار ہونے والے مسافر طیارے میں 42 مسافر اور عملے کے پانچ اراکین سوار تھے۔

20 اپریل سنہ 2012 کو نجی ایئر لائن بھوجا ایئر لائن کی پرواز لوئی بھیر کے قریب گر کر تباہ ہوئی تھی، اس میں 127 افراد سوار تھے۔

28 نومبر سنہ 2010 کو ایک چھوٹا طیارہ کراچی کے قریب گر کر تباہ ہوا تھا اور اس حادثے میں 12 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

بین الاقوامی فضائی حادثوں اور ہنگامی مواقع پر نظر رکھنے والے تنظیم 'ایئر کرافٹ کریشز ریکارڈ آفس' کے مطابق اس حادثے سے قبل پاکستان میں 35 ایسے حادثے ہوئے ہیں جن میں 705 افراد ہلاک ہوئے۔

پاکستان کی فضائی تاریخ کا سب سے جان لیوا حادثہ بھی اسلام آباد کے قریب 28 جولائی سنہ 2010 کو پیش آیا تھا جب نجی ایئر لائن ایئر بلیو کی پرواز مارگلہ کی پہاڑیوں سے جا ٹکرائی تھی اس میں 152 افراد سوار تھے۔

اس سے قبل دس جولائی سنہ 2006 کو پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کا فوکر طیارہ ملتان ایئر پورٹ سے اڑان بھرنے کے کچھ دیر بعد ہی گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ اُس میں 45 افراد ہلاک ہوئے جن میں ہائی کورٹ کے دو جج، فوج کے دو بریگیڈیئر اور بہاؤ الدین ذکریا یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی شامل تھے۔

مسافروں کی اموات کا سبب بننے والے حادثوں کی تفصیل کچھ یوں ہے۔

پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز یا ابتدا میں پاک ایئر ویز کو 11 حادثے اندرونِ ملک ہی پیش آئے جن میں سے پانچ حادثے فوکر طیاروں کے تھے۔

سنہ 2006 میں ملتان کا فوکر طیارے کا حادثہ پی آئی اے کی تاریخ کا اندرونِ ملک سب سے جان لیوا حادثہ تھا جس کے بعد فوکر طیاروں کا استعمال بند کر دیا گیا تھا۔

پاکستان میں اب تک فوجی مسافر طیاروں کے دس حادثے پیش آئے ہیں۔

آخری حادثہ پاکستان ایئر فورس کے فوکر طیارے کا تھا جو 20 فروری سنہ 2003 کو پیش آیا۔ کوہاٹ کے قریب گر کر تباہ ہونے والے اس طیارے میں اس وقت کے پاکستانی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل مصحف علی میر 17 افسران سمیت مارے گئے تھے۔

پاکستانی فضائیہ کے لیے اب تک مال بردار طیارے ہرکولیس سی ون تھرٹی سب سے زیادہ جان لیوا ثابت ہوئے ہیں جن میں خصوصی کیپسول رکھ کر مسافروں کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

ہرکولیس سی ون تھرٹی کے چار حادثوں میں سے 17 اگست سنہ 1988 کو بہاولپور کے قریب پیش آنے والا حادثہ قابلِ ذکر ہے جو اس وقت کے صدر اور فوجی آمر جنرل ضیا الحق سمیت 30 اہم شخصیات اور فوجی افسران کی موت کا سبب بنا۔

پاکستانی سرزمین پر گذشتہ 63 برس میں غیر ملکی ہوائی کمپنیوں کے نو فوجی اور غیر فوجی مسافر بردار طیاروں کو حادثے پیش آئے۔

ان میں سے تین حادثوں میں افغانستان کے مسافر بردار طیارے گر کر تباہ ہوئے۔ 13 جنوری سنہ 1998 کو افغان ہوائی کمپنی آریانا ایئر کا مسافر طیارہ خوژک پہاڑی سلسلے میں توبہ اچکزئی کے علاقے میں گرا۔ اس حادثے میں 51 مسافر ہلاک ہوئے اور یہ 28 جولائی سنہ 2010 سے پہلے تک پاکستانی سرزمین پر سب سے زیادہ جان لیوا فضائی حادثہ تھا۔

نو جنوری سنہ 2002 کو امریکی ایئر فورس کا ہرکولیس سی ون تھرٹی بلوچستان کی شمسی ائر بیس کے قریب گر کر تباہ ہوا اور سات مسافروں کی موت کا سبب بنا۔ یہ پاکستان میں کسی غیر ملکی طیارے کا آخری حادثہ تھا۔

24 فروری سنہ 2003 کو ایدھی ایئر ایمبولینس کا سیسنا 402 طیارہ کراچی کے قریب آٹھ مسافروں کی موت کا سبب بنا۔

اسی بارے میں