’اندر جا کر کیا دیکھنا ہے بس گٹھڑیاں ہی تو پڑی ہیں‘

طیارہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تاریکی میں کچھ امدادی کارکن تو طاقتور ٹارچوں سے ملبہ کو ہٹا ہٹا کر دیکھ رہے تهے

حویلیاں میں ایک پتهریلے اور کچے راستے پر ایمبولینس اور دیگر گاڑیوں کے ساتھ سست روی سے جائے حادثہ کی جانب سفر اس وقت مزید مشکل ہو گیا جب حادثے کے مقام سے آنے والی ایک ایمبولینس کو راستہ دینے کے لیے رکنا پڑا۔

اس سرکاری ایمبولینس میں سوار ایک شخص نے غمزدە لہجے میں کہا کہ اس طرف جانے کی کیا ضرورت ہے وہاں اب بچا ہی کیا ہے۔

انھوں نے ساتھ ہی ایمبولینس میں پڑی ایک خون آلود گٹھڑی کی جانب اشارە کرتے ہوئے کہا کہ بس یہ ٹکڑے ہیں جو ہم جمع کر کے ایبٹ آباد کے ایوب میڈیکل کمپلیکس لے کر جا رہے ہیں۔

اس منظر سے صورتحال واضح ہو چکی تھی لیکن سفر جاری رہا۔ ایک مقام سے گاڑیاں آگے نہیں جا سکتی تھیں اور وہاں سے تقریباً ایک گھنٹے کی پہاڑی چڑھائی تھی۔

مقامی لوگوں کا ایک قافلہ بھی ساتھ تھا جو طیارے کے گرنے کے بارے میں مختلف کہانیاں بیان کر رہے تهے۔ جیسے جیسے جائے حادثہ کے قریب پہنچتے گئے تیل، دیگر مواد اور انسانی اعضا کے جلنے کی بو وہاں ہونے والی تباہی کی کہانی بیان کر رہی تھی۔ پہاڑ پر چڑھتے ہوئے طیارے کے ٹکڑے پاؤں میں آ رہے تهے لیکن امدادی کارروائیوں کا محور وہاں پڑے طیارے کے عقبی حصے کے اطراف میں تھا جہاں چاروں اطراف ملبہ بکهرا پڑا تها۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

تاریکی میں کچھ امدادی کارکن تو طاقتور ٹارچوں سے ملبہ کو ہٹا ہٹا کر دیکھ رہے تهے تو باقی جن کے پاس ٹارچ نہیں تھی وە اپنے موبائل فون کی ٹارچ کے ساتھ کام چلا رہے تهے۔

وہاں جیسے ہی ملبے کو ہٹایا جاتا تو نیچے سے دهواں نکلنا شروع ہو جاتا۔ وہاں موجود ایک کارکن نے بتایا کہ تقریباً تمام ہلاک شدگان کی باقیات کو تلاش کیا جا چکا ہے۔ اسی دوران قریب ہی ایک نوجوان ملبے کے ڈھیر کو لوہے کے پائپ سے، جو شاید ان کو وہیں سے ملا تها، ہٹانا شروع کیا اور ساتھ میں اپنے دوسرے ساتهیوں سے کہا کہ یقیناً نیچے انسانی باقیات ہیں کیونکہ ملبے کو ہٹاتے ہی آنے والے بو سے محسوس ہوتا ہے۔

اس کے ساتھ وہاں دیگر امدادی کارکنوں میں بهی ہلچل ہوئی اور پروفیشنل ٹارچ مہیا کرنے کے لیے آوازیں دینا شروع کر دیں اور تھوڑی ہی نیچے ایک امدادی کارکن کے پاس وە ٹارچ تهی اور اس کی روشنی میں ننگے ہاتهوں سے اس نوجوان نے ملبے کو ٹٹولنا شروع کیا اور انسانی ہڈی دکهاتے ہوئے کہا کہ یقیناً دیگر باقیات بھی نیچے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی وہاں امدادی سرگرمیوں میں کچھ تیزی آ گئی لیکن دوسری جگہوں پر یہ کام ویسے ہی جاری تها جس میں امدادی کارکنوں کے چہروں پر تهکاوٹ بهی واضح ہو رہی تهی لیکن کام ابهی بہت باقی تها۔

اس بارے میں جب وہاں کهڑے ایبٹ آباد کے ضلع کی سطح پر امدادی کارروائیوں کے سربراە غیور خان سے بات کی تو انهوں نے قریب میں دیگر پہاڑی چوٹیوں کی جانب اشارە کرتے ہوئے کہا کہ ابهی تو تاریکی کی وجہ سے آپ کو کچھ نظر نہیں آ رہا لیکن ملبہ دور دور تک پهیلا ہے اور ملبے کی تلاش کی کارروائی شاید مزید ایک دن جاری رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption لاشوں کو ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے جمعرات کی صبح اسلام آباد کے پیمز ہسپتال پہنچایا جائے گا

غیور خان کے مطابق ہسپتال سے اطلاع ملی ہے کہ اب بهی دو مسافروں کی باقیات کم ہیں اور ان کی تلاش بهی جاری رکهے ہوئے ہیں۔

جلی ہوئی جهاڑیوں، اڑتی راکھ اور بکهرے ملبے سے جب ایبٹ آباد کے ایوب میڈیکل کمپکیس پہنچے تو وہاں کے داخلی راستے پر کهڑے گارڈ نے بغیر پوچهے ہی بتا دیا کہ لاشوں کے لیے اس طرف جائیں جہاں موجود حکام اعلان کر رہے تهے کە یہاں سہولیات کے فقدان کی وجہ سے لاشوں کو ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے جمعرات کی صبح اسلام آباد کے پمز ہسپتال پہنچایا جائے گا۔

وہاں موجود لواحقین ہسپتال کے ایک بند دروازے سے بار بار اندر جانے کی کوشش کر رہے تهے اور وہاں کهڑا گارڈ انھیں کہہ رہا تها کہ اندر جا کر کیا دیکھنا ہے بس گٹھڑیاں ہی تو پڑی ہیں۔ اس سے مراد اس کی وہ گٹھڑیاں تهیں جن میں انسانی باقیات لائی گئیں تھیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں