ڈی این اے کے ذریعے لاشوں کی شناخت کا عمل جاری

صوبہ خیبر پختونخواہ کے علاقے حویلیاں کے قریب گزشتہ روز تباہ ہونے والے پی آئی اے کے طیارے میں سوار تمام افراد کی لاشیں نکال کر اسلام آباد منتقل کر دی گئی ہیں جہاں ڈی این ٹیسٹ کے ذریعے ان کی شناخت کا عمل جاری ہے۔۔

ایوب میڈیکل کمپلیکس کے ڈپٹی سپرانٹینڈنٹ ڈاکٹر جنید نے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں سے ایک ائیر ہوسٹس سمیت چھ افراد کی شناخت کر لی گئی ہے۔

٭ پی آئی اے کے طیارے کو حادثہ، 48 افراد ہلاک

٭ ’اندر کیا دیکھنا ہے بس گٹھڑیاں ہی تو ہیں‘

انھوں نے بتایا کہ اس حادثے میں ہلاک ہونے والی ایئر ہوسٹس کی لاش کی شناخت ان کے شوہر نے کی جبکہ ایک لاش کی شناخت فنگر پرنٹس اور دیگر چار لاشوں کی شناخت جائے حادثہ سے ملنے والے شواہد کے ذریعے کی گئی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ تمام لاشوں کے ڈی این اے سیمپلنگ کر لی گئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ لاشوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اسلام آباد کے پمز ہسپتال اور راولپنڈی میں سی ایم ایچ منتقل کیا گیا ہے جہاں ان کے ڈی این اے میچ کرنے کے بعد انھیں ان کے لواحقین کے حوالے کر دیا جائے گا۔

پاکستان فوجی کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایبٹ آباد سے لاشوں کو اسلام آباد منتقل کرنے کے لیے تین فوجی ہیلی کاپٹر استعمال کیا گیا۔

معاوضہ

پی آئی اے کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پی آئی اے کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر نے اعلان کیا ہے کہ جہاز کے حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو پانچ پانچ لاکھ روپے نقد دیا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈسٹرکٹ مینیجروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ گھر گھر جا کر یہ معاوضہ دیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس رقم کے بعد قانون کے مطابق معاوضہ دیا جائے گا۔

خیال رہے کہ بدھ کی شام پی آئی اے کی پرواز پی کے 661 حویلیاں کے قریب پہاڑی علاقے میں گر کر تباہ ہو گئی تھی جس کے نتیجے میں اس پر سوار عملے سمیت تمام 48 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

حادثے کا شکار ہونے والے مسافر جہاز میں 42 مسافر،عملے کے پانچ اراکین اور ایک گراؤنڈ انجینیئر سوار تھا جبکہ مسافروں میں 31 مرد نو خواتین اور دو شیر خوار بچے شامل تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ہلاک شدگان میں مشہور گلوکار، مبلغ اور نعت خواں جنید جمشید بھی شامل ہیں۔

ضلعی ایمرجنسی آفیسر غیور مشتاق احمد خان نے بتایا ہے کہ حادثے میں ہلاک ہونے والے تمام افراد کی لاشیں رات دو بجے ہی نکال لی گئی تھیں۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ جائے حادثہ پر تاحال ملبہ ہٹانے اور دیگر شواہد اکھٹے کرنے کا کام جاری ہے۔

اس سے قبل گذشتہ روز پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے چیئرمین اعظم سہگل کا کہنا تھا کہ چترال سے اسلام آباد کے سفر کے دوران تباہ ہونے والے مسافر طیارے میں پرواز سے قبل کوئی فنّی خرابی نہیں تھی تاہم حادثے کی اصل وجوہات کا اندازہ تحقیقات کے بعد ہی ہو سکے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں