طیارے کا حادثہ، شفاف تحقیقات کا ایک اور موقع

جہاز تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ابھی کل ہی کی تو بات ہے کہ میں اسی طیارے APB HO پر سوار ہو کر لاہور سے اسلام آباد پہنچا تھا۔ پی آئی اے کے نظام کے مطابق پی کے 656 کے لیے ایئربس اے 320 طیارہ تھا مگر ہوائی اڈے پر پہنچنے پر پتا چلا کہ طیارہ بدل گیا ہے اور اب اے ٹی آر پر جانا ہو گا۔

ایک مسافر نے بتایا کہ جناب ہمیں تو پی آئی نے فون کر کے پوچھا کہ آپ نے جانا ہے کیونکہ طیارہ اب اے ٹی آر ہے تو ہم نے جواب دیا جی ہم نے ہر حال میں جانا ہے چاہے جو بھی ہو۔

٭پی آئی اے طیارہ حادثہ، کب کیا ہوا؟

٭ ’صرف ایک بچے کا بازو سلامت تھا‘

خیر یہ وہ بات ہے جو پاکستان میں سب کرتے ہیں کیونکہ ان میں سے کئی ایسے ہیں جنہیں پی آئی اے کے فوکر طیاروں میں اور اے ٹی آر میں کوئی فرق نظر نہیں سمجھ آتا ہے کیونکہ دونوں کے پنکھے جو لگے ہیں۔

اب ایسے احباب کو کون سمجھائے کہ ہر پنکھے والا طیارہ فوکر نہیں ہوتا اور پنکھے والا یعنی ٹربو پروپلر طیارہ دنیا بھر میں درجنوں فضائی کمپنیاں استعمال کرتی ہیں اور اسے دنیا کے محفوظ ترین طیاروں میں سے ایک شمار کیا جاتا ہے۔

پی آئی اے نے اے ٹی آر طیارے ملتان میں فوکر طیارے گرنے کے بعد حاصل کیے جو بالکل نئے تھے یعنی فیکٹری سے نکل کر پی آئی اے کے بیڑے میں شامل ہوئے اور اب تک پی آئی اے کے پاس اس بدقسمت طیارے سمیت گیارہ طیارے تھے۔

چھ چھوٹے اور پانچ بڑے طیارے جن میں 72 مسافر تک بیٹھ سکتے ہیں۔

خیر اے پی بی ایچ او پر سوار ہونے سے قبل میں نے ایک بچے کی طرح اس طیارے کی تصویر اتاری جیسے کوئی ماں اپنے بچے کی نظر اتارتی ہے۔ ایک زمانے میں جب پی آئی اے نے اپنے طیاروں کے نام رکطنے شروع کیے تو اس طیارے کا نام ’حسن ابدال‘ رکھا اور پر تحریر لکھی ’گردواروں کی شان‘ جس میں اشارہ حسن ابدال شہر کی جانب تھا۔

ان تصاویر میں 'ایوی ایشن اینتھیوزسٹ' کے لیے لازم طیارے کی رجسٹریشن کو ضرور رکھا تاکہ سند رہے۔

اسی لیے جیسے ہی طیارے کے گرنے کی خبر آئی اس کی رجسٹریشن کا تعین میرے لیے شاید بہت اہم تھا اور جیسے ہی یہ تعین ہوا ویسے ہی میرا دل جیسے بیٹھ سا گیا۔

دو دن کا فرق، وہی طیارہ اور وہی منزل اسلام آباد جہاں تک یہ 42 مسافر نہیں پہنچ سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مسافر جہاز میں 42 مسافر،عملے کے پانچ اراکین اور ایک گراؤنڈ انجینیئر سوار تھا

اور جب بٹولی گاؤں کے قریب پہاڑی پر اے پی بی ایچ او کا عقبی حصہ پڑا ہوا نظر آیا تو مجھے فلیش بیک میں سارا منظر یاد آیا کہ یہی وہ جگہ ہے جہاں سے سیڑھیاں اتر کر میں نے اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر قدم رکھے تھے۔

اس پہاڑی پر طیارے کا بکھرا ملبہ اپنی داستان سنا رہا تھا جس میں کیبن کرو کی سیٹ بیلٹ جس کا بکل مخصوص انداز کا ہوتا ہے یا پھر انجن کے ٹکڑے جس کے پر ایک خاص میٹیریئل کے بنے ہوتے ہیں۔

یا پھر طیارے کے آخر میں لگی ایک نشست جس کا سب کچھ ادھڑ چکا تھا مگر اس کی شکل و صورت سے اندازہ ہوتا تھا کہ یہ کیا تھی اور بہت سے کاغذات، بہت سی ایسی اشیا جو اس طیارے کے مسافروں کے پاس ہوں گی۔

دبئی کے شاپنگ فیسٹیول کا شاپنگ بیگ جس میں ڈال کر کوئی اپنے پیارے کے لیے کچھ تحفہ لے کر جا رہا ہو گا یا پھر جگہ جگہ بکھرے کپڑے، پلاسٹک اور انسانی جسم کے جیٹ فیول میں جلے حصے۔

اے پی بی ایچ او ایک طیارہ نہیں پی آئی اے کا ایک بچہ تھا جہاں بہت سے لوگوں سے ان کے پیارے بچھڑے وہیں پی آئی اے سے ان کا ایک طیارے ان کے پانچ ساتھیوں سمیت بچھڑا۔

اس کی وجہ جو بھی ہو مگر تحقیقات کے بغیر اور ثبوت کے بغیر طرح طرح کے مفروضوں اور قیافہ شناسیوں کی بنیاد پر سازشی نظریات پیش کرنا درست نہیں۔

ابھی تو طیارے کے عملے کے ارکان کے جلے ہوئے جسموں کی شناخت تک نہیں ہوئی تو ہم ان پر بغیر ثبوت کے الزامات لگا کر کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟

Image caption ٹربو پروپلر طیارہ دنیا بھر میں درجنوں فضائی کمپنیاں استعمال کرتی ہیں اور اسے دنیا کے محفوظ ترین طیاروں میں سے ایک شمار کیا جاتا ہے

عینی شاہدین کے مطابق طیارے کی آخری حرکات سے بخوبی اندازہ ہوتا تھا کہ یہ جس کے بھی ہاتھ میں تھا اس نے پہلے اپنے مسافروں اور پھر نیچے آنے والی آبادی بچانے کی پوری کوشش کی۔

اپ پی بی ایچ او ایک طیارہ ہی نہیں پاکستانی ہوابازی کی تاریخ میں ایک اور ایسا کیس ہے جس سے سول ایوی ایشن اور پی آئی اے دونوں کو یہ موقع ملا ہے کہ وہ ایک شفاف تحقیقات کروا کر اس ملک کی عوام کے ہوابازی پر متزلزل اعتماد کو پہنچی ٹھیس کا مداوا کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

تاریخ نے ایک بدقسمت حادثے کی صورت میں ایک بار پھر گیند سول ایوی ایشن نام کے ریگولیٹر کے کورٹ میں پھینکی ہے۔ دیکھتے ہیں کہ بات کیا ماضی کی طرح داخل دفتر ہی ہو گی یا کچھ آگے بھی بڑھے گی؟

اسی بارے میں