’اے ٹی آر میں خرابی کا مفروضہ درست نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پاکستان کی قومی فضائی کمپنی کا مسافر طیارہ ایبٹ آباد کے قریب گر کر تباہ ہو گیا تھا، جہاز میں عملے سمیت 47 افراد سوار تھے

پاکستان میں فضائی حادثات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس تحقیقات کی مطلوبہ سہولت اور مہارت کا فقدان ہے، اس لیے اقوام متحدہ کی ہدایت کے مطابق جنوبی ایشیا کی سطح پر محکمۂ بناکر تحقیقات کو کارآمد بنایا جاسکتا ہے۔

سوسائٹی آف ایئر سیفٹی انویسٹی گیشن پاکستان کے سربراہ اور سویل ایوی ایشن کے سابق تحقیقاتی افسر ریٹائرڈ ونگ کمانڈر سید نسیم احمد نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقاتی ٹیم کا یہ فرض ہوتا ہے کہ فوری تحقیقات کا آغاز کرے۔

فوری تحقیقات کے لیے نسیم احمد کے مطابق پورا ریکارڈ، طیارے کا ملبہ، ایئر ٹریفک کنٹرول کا ریکارڈ قبضے میں لیا جانا ضروری ہے۔

انھوں نے کہا کہ واقعے کے چشم دید گواہ اور عام لوگوں یا ماہرین ان سب سے رابطہ کر کے مختلف پہلوں سے تحقیقات کی جانی چاہیے لیکن پاکستان جیسے ملک جن کے پاس بورڈ میں صرف دو یا تین لوگ ہوں ان کے لیے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ وہ اتنے رخ دیکھیں۔

سید نسیم احمد کے مطابق 'ایک طرف میڈیا کے سوالات آ رہے اور حکامِ بالا کی ہدایات آ رہی ہوتی ہیں، وہ خود کہیں اور جہاز کہیں اور ہوتا ہے ان کے پہنچنے سے پہلے کئی چیزیں ادھر ادھر ہو چکی ہوتی ہیں اور ریسکیو آپریشن کے دوران شواہد تباہ ہوچکے ہوتے ہیں، اس صورتحال میں جس ملک کی جتنی اچھی تیاری ہوگی وہ اس چیلنج سے زیادہ اچھی طرح سے نمٹ سکتا ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ اتنی تیاری مالی اعتبار سے ممکن نہیں ہے ایسے محکمے امریکہ، فرانس ، اٹلی دیگر ممالک میں قائم ہیں جن کے پاس اتنے وسائل دستیاب ہیں۔

'پاکستان بنگلادیش، بھارت، افغانستان سری لنکا ایسے ملک ہیں جہاں یہ محکمے موجود نہیں یا ہیں تو کچھ نہیں کر پاتے اسی لیے اقوام متحدہ نے یہ تصور دیا ہے کہ جنوبی ایشا کے ممالک ساتھ مل کر ایک انویسٹی گیش محکمۂ بنائیں لیکن جنوبی ایشیا کا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں انڈیا اور پاکستان میں عدم تعاون کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہوا اور اس کو 15 سال کا عرصہ ہوچکا ہے۔'

سید نسیم احمد سول ایوی ایشن میں بھی تحقیقاتی افسر رہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ طیارے تیکنیکی طور پر اتنے بہتر ہوچکے ہیں کہ گذشتہ چند برسوں میں ایک آدھا بار ایسا ہوگا کہ آپ کہیں گے کہ تیکینکی خرابی کے باعث یہ حادثہ ہوا۔

Image caption سوسائٹی آف ایئر سیفٹی انویسٹی گیشن پاکستان کے سربراہ سید نسیم احمد کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس تحقیقات کے لیے مطلوبہ سہولیات اور مہارت کا فقدان ہے۔

انھوں نے کہا کہ جہاز کو کنٹرول پائلٹ کرتا ہے اور ایمرجنسی کی صورت میں اس نے کئی فیصلے لینے ہوتے ہیں اور فیصلہ لینے میں کوئی غلطی ہوسکتی ہے جس کی وجہ سے حادثہ ہوسکتا ہے لیکن اس بنیاد پر ہم اس کو حادثے کا ذمہ دار قرار نہیں دے سکتے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اُسے یہ کرنا چاہیے تھا یا یہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔

ان کے مطابق جس قانون کے تحت سول ایوی ایشن تحقیقات کرتی ہے اس کے تحت تحقیقات کا مقصد کسی پر الزام تراشی نہیں ہے، اس کا مقصد عوامل اور وجوہات سامنے لانا ہے۔ سول ایوی ایشن اہلکار بھی اس ماحول میں کام کرتے ہیں اس لیے انھیں بھی شک و شبہات رہتے ہیں۔

ونگ کمانڈر نسیم احمد کا کہنا تھا کہ فٹنس کے مقامی اور بین الاقوامی معیار مختلف نہیں ہوتے، ایوی ایشن ایک عالمی سرگرمی ہے کیونکہ طیارے کئی ممالک جاتے ہیں اور وہ مختلف ممالک سے گذرتے ہیں اور جس ملک سے گذرتا ہے اس کے قوانین اس پر لاگو ہوتے ہیں اس لیے عالمی طور پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ یہ طیارہ کم از کم بھی قابل قبول معیار پر کام کر رہا ہے۔

سید نسیم احمد اے ٹی آر کے جنوبی ایشیا میں رابط کار ہیں، ان کا کہنا تھا کہ فوکر طیاروں کو سیفٹی بنیادوں پر گراؤنڈ نہیں کیا گیا تھا بکہ وہ ایک سیاسی فیصلہ تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

'جب آپ پرانے جہاز گراؤنڈ کرتے ہیں تو ایک جدید جہاز لاتے ہیں جو اس وقت اے ٹی آر تھا، جنوبی اشیا میں 100 کے قریب اے ٹی آر موجود ہیں ان میں سے 50 انڈیا میں کام کر رہے ہیں وہاں ایک بھی حادثہ نہیں ہوا ہے اس لیے یہ مفروصہ درست نہیں ہے کہ اے ٹی آر میں خرابی تھی۔

سید نسیم احمد کا کہنا تھا کہ سیفٹی اینڈ انویسٹی گیشن بورڈ ایک آزاد اور خود مختار ادارہ ہونا چاہیے حالانکہ حکومت دعویٰ کرتی ہے لیکن وہ کسی بھی زوایے سے آزاد نہیں لگتا اس کے لیے قانون سازی درکار ہے۔

'حادثات کی تحقیقات آج کل مینجمنٹ ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہمارے ہاں حادثات بہت زیادہ ہیں۔ ہمیں دیکھنا ہے کہ تربیت کا طریقہ کار ٹھیک ہے، جو آلات لیے گئے ہیں وہ درست ہیں، سمیولیٹر کی فریکوئنسی ٹھیک ہے کہ نہیں، کس بنیاد پر ایک طیارے میں ایک تجربے کے دو پائلٹس کو بٹھایا گیا ہے۔'

ونگ کمانڈر نسیم احمد کا کہنا ہے کہ ماضی میں جو حادثات ہوئے ہر بار وہی گھسی پٹی سفارشات کی جاتی ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا کسی کی تو ذمے داری ہو کہ وہ ان سفارشات کو دیکھ اور عملدرآمد کو یہ یقینی بنائے ۔

اسی بارے میں