تحریک طالبان کے سابق کمانڈر ’اپنے ساتھی کی گولی‘ سے ہلاک

ٹی پی پی تصویر کے کاپی رائٹ AP

کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے سابق کمانڈر فضل سعید اور ان کے ساتھی کو مبینہ طور پرگولی مار کر ہلاک کردیا ہے اور اطلاعات ہیں کہ انھیں اپنے ہی کسی ساتھی نے مارا ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق فضل سعید حقانی کی نماز جنازہ کرم ایجنسی میں ان کے آبائی علاقے میں جمعے کو ادا کی گئی۔

٭جماعت الاحرار، لشکر جھنگوی العالمی کالعدم تنظیموں میں شامل

٭ کراچی میں داعش اور طالبان کے تین شدت پسند ہلاک: رینجرز

اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے سابق کمانڈر فضل سعید کو کرم ایجنسی میں بگن کے قریب گاؤں سرہ غورگہ کے مقام پر فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا ہے۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ انھیں ان کے قریبی محافظ نے مارا ہے۔

سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی اور نہ ہی ان کی تنظیم کے کسی رکن سے رابطہ ہو سکا تاکہ ان کی ہلاکت کی تصدیق کی جا سکے۔ کرم ایجنسی سے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ فضل سعید حقانی کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

فضل سعید کالعدم تحریک طالبان کے اہم کمانڈر رہے ہیں اور ایک وقت ایسا تھا کہ کرم ایجنسی میں وہ ایک طاقتور کمانڈر سمجھے جاتے تھے۔

ذرائع نے بتایا کہ جون 2011 میں فضل سعید حقانی نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے علیحدگی اختیار کر لی تھی اور 'تحریک طالبان اسلامی پاکستان' کے نام سے ایک نئی تنظیم بنانے کا اعلان کیا تھا۔

فضل سعید حقانی نے ٹی ٹی پی سے علیحدگی کے بارے میں اس وقت کرم ایجنسی میں کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلفون کر کے بتایا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے ان کا اس بات پر اختلاف ہوا کہ وہ اپنے ہی مُلک میں خودکش حملوں، بازاروں اور مساجد پر حملوں سے باز نہیں آ رہے تھے۔

انھوں نے مزید بتایا تھا کہ کرم ایجنسی میں محمد نامی کمانڈر کی ہلاکت کے بعد ان کے اس وقت کے طالبان سربراہ حکیم اللہ محسود سے اختلافات پیدا ہوگئے تھے اور دو مہینوں سے یہ اختلافات چلے آرہے تھے جبکہ دو سال سے ان کی حکیم اللہ محسود سے کوئی ملاقات بھی نہیں ہوئی تھی۔

فضل سعید حقانی کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ انھوں نے چند ماہ پہلے ہتھیار ڈال دیے تھے اور انھوں نے پاکستان میں حکومت کی حمایت کی تھی۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ اپنی تنظیم قائم کرنے کے بعد ان کے ساتھیوں کی تعداد کم ہو گئی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں