کراچی اور حیدرآباد میں ایم کیو ایم لندن کے درجنوں کارکن گرفتار

کراچی تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے صوبہ سندھ کے دو بڑے شہروں کراچی اور حیدرآباد میں لندن قیادت کی زیر سرپرستی متحدہ قومی موومنٹ نے ایک بار پھر سیاسی قوت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

اس دوران رینجرز اور پولیس نے کشیدگی کے بعد کئی درجن کارکنوں کو گرفتار کرلیا ہے۔

کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کے مرکزی دفتر کے قریب واقع مکا چوک پر جمعہ کی دوپہر کو لندن قیادت کی زیر سرپرست ایم کیو ایم کے کارکن جمع ہوئے اور تنظیم کے سربراہ الطاف حسین کے حق میں نعرے بازی کی، اسی دوران چند کارکنوں نے مکا چوک پر تنظیمی جھنڈا بھی لگا دیا۔ رینجرز نے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی۔

رینجرز کے ونگ کمانڈر نسیم کا کہنا تھا کہ کچھ حضرات نے سڑک کے پر چادریں بچھا کر قرآن خوانی شروع کی جس کی وجہ سے عوام اور ٹرئفک کی روانی متاثر ہو رہی تھی دوسری بات یہ کہ سڑک قرآن خوانی کےلیے مناسب جگہ بھی نہیں ہے۔

’انھوں نے کسی کو قرآن خوانی سے روکا نہیں تھا، کچھ خواتین آئیں اور کہا کہ وہ قرآن خوانی کے لیے جانا چاہتے ہیں انھوں نے انھیں جانے کی اجازت دے دی اور کہا کہ قرآن کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کی مذہب اجازت نہیں دیتا خواتین نے یقین دہانی کرائی کہ وہ مردوں کو سمجھائیں گی۔‘

کمانڈر نسیم احمد کے مطابق اچانک لوگوں نے سیاسی نعرے لگانے شروع کردیے اور پارٹی کے جھنڈے لگائے۔ پولیس اور رینجرز نے ایکشن لیا اور وہ لوگ جو افرا تفری اور بدامنی کا باعث بن رہے تھے ان کو گرفتار کرلیا گیا۔

دوسری جانب ایم کیو ایم کے رہنما مصطفیٰ عزیز آبادی کا کہنا ہے کہ آج کا دن الطاف حسین کے بھائی ناصر حسین اور بھتیجے عارف حسین اور دیگر کارکنوں کی ہلاکت کے حوالے سے منایا جاتا ہے، اس روز تنظیم کے کارکن اور لواحقین یادگار شہدا پر جاتے ہیں۔

’لواحقین اور کارکن یادگار پر جانا چاہتے تھے اس کا کوئی سیاسی مقصد یا سیاسی جلسے جلوس کا ارادہ نہیں تھا لیکن افسوس کی بات ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پولیس اور حکومت نے گذشتہ شب سے جناح گروانڈ اور مکا چوک کے اطراف کی ناکہ بندی کردی اور انھیں جانے نہیں دیا۔‘

رواں سال اگست میں ایم کیو ایم کے لندن میں مقیم سربراہ الطاف حسین کی متنازعہ بیان اور ٹی وی چینلز پر حملوں کے بعد ڈاکٹر فاروق ستار کی قیادت میں ایم کیو ایم لندن سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ اب وہ تمام فیصلے کریں گے۔ کراچی کے میئر سمیت اراکین اسمبلی نے بھی ان کا ساتھ دیا تھا، جبکہ لندن کی قیادت نے ان کی رکنیت معطل کردی۔

ایم کیو ایم لندن کے رہنما مصطفیٰ عزیز آبادی کا کہنا ہے کہ انھوں نے رابطہ کمیٹی تشکیل دی تھی جس میں 75 سالہ ڈاکٹر حسن ظفر عارف، امجد اللہ خان، مومن خان، کنور خالد یونس اور ساتھی اسحاق سمیت دیگر لوگ شامل تھے لیکن انھیں گرفتار کرکے جیلوں میں ڈالا گیا جبکہ جواز یہ بتایا کہ نقص امن کا خطرہ ہے لیکن جو کالعدم تنظیمیں ہیں وہ آزاد ہیں۔

رینجرز سے جھڑپ اور کارکنوں کی گرفتاریوں کے بعد ایم کیو ایم کے ہمدروں کی ایک بڑی تعداد مکا چوک پہنچ گئی اور انھوں نے مکہ چوک اور آس پاس کی سڑکوں کو دھرنا دے کر بند کردیا۔ اس دوران پولیس کی بھی بھاری نفری طلب کرلی گئی۔

ادھر حیدرآباد میں پکا قلعہ پر ایم کیو ایم کے کارکنوں نے اجتماع کی کوشش کی، جہاں پولیس نے لاٹھی چارج کرکے درجنوں کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔

یاد رہے کہ ایم کیو ایم سے علیحدگی اختیار کرنے والے مصطفیٰ کمال کی جماعت نے 23 دسمبر کو حیدرآباد پکا قلعہ میں جلسے کا اعلان کر رکھا ہے، پولیس کی کارروائی کے وقت مصطفیٰ کمال حیدرآباد میں تھے جہاں انھوں نے پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا اور دعویٰ کیا کہ ڈاکر فاروق ستار کی لندن قیادت مدد کر رہی ہے۔

اسی بارے میں