پشاور میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ڈی ایس پی ہلاک

پشاور پولیس تصویر کے کاپی رائٹ AFP

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے انسداد دہشت گردی محکمے کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس ریاض الاسلام ہلاک جبکہ ان کے بیٹے اس حملے میں زخمی ہوئے ہیں۔

یہ واقعہ سنچر کو چارسدہ روڈ پر مدینہ کالونی میں پیش آیا ہے۔

فقیر آباد تھانے کے ایس ایچ او عبدالغفار نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈی ایس پی ریاض الاسلام بیٹے کے ساتھ مسجد میں مغرب کی نماز ادا کرنے آئے تھے اور نماز ادا کرنے کے بعد جیسے ہی وہ مسجد سے باہر نکلے ہیں تو اسی دوران نا معلوم افراد نے ان پر فائرنگ کی ہے ۔

اس حملے میں ریاض الاسلام زخمی ہوئے جنھیں فوری طور لیڈی ریڈنگ ہسپتال پہنچایا گیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ حملہ آور موٹر سائکل پر سوار تھے اور فائرنگ کے بعد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے ڈی ایس پی ریاض الاسلام پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

اس واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر ملزمان کی گرفتاری کے لیے آپریشن شروع کیا گیا۔

پشاور میں اگرچہ تشدد کے واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے لیکن پولیس ہر حملوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ چند روز پہلے پشاور میں پولیس پر مختلف علاقوں میں دو حملے کیے گئے جس میں کوئی بڑا جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔ ایک حملہ جمرود روڈ پر کاخانوں کے قریب جبکہ دوسرا حملہ جی ٹی روڈ پر کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں