’جب ادارے کام نہ کریں تو پھر عوام کی نظریں عدالت پر لگ جاتی ہیں‘

Image caption چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے چیف جسٹس پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی کو شلیڈز دی

چیف جسٹس پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا ہے کہ ملک کی عدالتیں آزاد ہیں اور کسی کو خوش کرنے یا کسی کے دباؤ میں آ کر فیصلے نہیں کرتیں۔

سنیچر کو یہ بات چیف جسٹس پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی نے لاہور ہائیکورٹ کی 150 سالہ تقریبات کے سلسلے جوڈیشل کانفرس سے خطاب کے دوران کہی۔

میاں ثاقب نثار سپریم کورٹ کے چیف جسٹس مقرر

چیف جسٹس پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ سپریم کورٹ سے لیکر مجسٹریٹ تک تمام عدالتیں مکمل آزاد ہیں اور انصاف کی فراہمی کےلئے کسی دباو کا شکار نہیں ہیں۔

جسٹس انور ظہیر جمالی نے واضح کیا کہ عدالتیں کسی کو خوش کرنے اور میڈیا میں تشہیر کے دباؤ میں آ کر فیصلے نہیں کرتیں۔

سپر کورٹ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ جب ادارے کام نہ کریں تو پھر عوام کی نظریں عدالت پر لگ جاتی ہیں۔

ان کے بقول اگر ادارے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام ہو جائیں تو عدالتوں کو ہی لوگوں کی امیدوں پر پورا اترنا ہوتا ہے اور تمام تر ذمہ داریاں عدلیہ کے کندھوں پر عائد ہو جاتی ہیں۔

کانفرس میں سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹسز، اعلی عدلیہ کے موجودہ اور سابق ججز کے علاوہ ضلعی عدلیہ کے ججز اور وکلا نے شرکت کیا۔

کانفرنس سے نامزد چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے خطاب میں کہا کہ جج کا کام محض مقدمات کونمٹانا نہیں بلکہ اسے مکمل انصاف کرناچاہیے۔

جسٹس میاں ثاقب نثارنے کہا کہ عدالتوں کے پاس لامحدود اختیار نہیں ہیں، انہیں قانون و آئین کے دائرہ میں رہتے ہوئے انصاف فراہم کرناہوتا ہے۔

اس موقع پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا کہ کہ ادارے کو آگے لے کر جانے کے لیے خود احتسابی بہت ضروری ہے اور اس پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی ہے اور قانون کی حکمرانی کا اصول پہلے خود پر لاگو کرنا ہوگا۔

کانفرنس کے اختتام پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی اور نامزد چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کو شلیڈز دیں۔

اسی بارے میں