خیبر پختونخوا: قطری شہزادوں کو تلور کے شکار کی اجازت نہیں

تلور تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سردیوں کے موسم میں ہزاروں تلور پاکستان کا سفر کرتے ہیں

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں تلور کے شکار پر پابندی کے بعد صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت کی درخواست کے باوجود قطری شہزادوں کو اس نایاب پرندے کے شکار کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

تحریک انصاف کے صوبائی رہنما اور خیبر پختونخوا اسمبلی میں پارٹی کے پارلیمانی لیڈر شوکت یوسف زئی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ وفاقی حکومت کی طرف سے ان سے درخواست کی گئی تھی کہ کچھ عرصہ کےلیے تلور کے شکار پر پابندی ہٹائی جائے لیکن حکومت نے اس نایاب پرندے کے نسل کو بچانے کی خاطر یہ درخواست مسترد کر دی ہے۔

٭ تلور کی غلام خارجہ پالیسی

٭ تلور کے شکار کی خفیہ پاکستانی انڈسٹری

انھوں نے کہا کہ ہر سال صوبے میں 15 جنوری سے لے کر 15 فروری تک تلور کے شکار کی اجازت دی جاتی ہے اور اس دوران شکاری باقاعدہ لائسنس لے کر شکار کرتے ہیں تاہم اس سال حکومت نے شکار پر پابندی نہ ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔

شوکت یوسف زئی کے مطابق آئین کی 18ویں ترمیم کے بعد جنگلی حیات کا محکمہ صوبائی حکومت کے ماتحت آتا ہے لہٰذا صوبے نے اپنے اختیارات میں رہ کر یہ فیصلہ کیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ تلور نایاب پرندہ ہے جو دوسرے علاقوں سے یہاں آتا ہے جبکہ غیر قانونی شکار کے باعث اس کی نسل ختم ہوتی جا رہی ہے، اس لیے اس پرندے کے نسل کو معدومی سے بچانے کی خاطر یہ فیصلہ عمل میں لایا گیا ہے۔

ادھر تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی گذشتہ روز سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا تھا کہ وہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے بات کریں گے کہ صوبے میں تلور کے شکار کی اجازت نہ دی جائے کیونکہ یہ تحفظ یافتہ پرندہ ہے اور اس کا شکار کرنا غیر قانونی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

خیال رہے کہ تلور سردیوں کے موسم میں دوسرے ممالک سے ہجرت کر کے ہزاروں کی تعداد میں پاکستان کے مختلف علاقوں میں پہنچتا ہے۔

پاکستان میں عام طورپر یہ پرندہ پنجاب اور بلوچستان کے سرحدی اور ریگستانی علاقوں میں پایا جاتا ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں یہ پرندے ڈیرہ اسمعیل خان اور کوہاٹ کے علاقوں میں ڈیرے ڈالتے ہیں۔

ملک میں عام طورپر اس پرندے کے شکار پر سرکاری طورپر پابندی عائد ہے لیکن جب عرب شاہی خاندان کے افراد تلور کے شکار کے لیے اپنے سفر کا آغاز کرتے ہیں تو ان کے لیے کوئی روک ٹوک نہیں ہوتی۔ شکار پر پابندی کے باوجود حکومت امیر شیخوں کے لیے سالانہ 25 سے 35 پرندوں کے شکار کے خصوصی اجازت نامے جاری کرتی ہے جس میں اُنھیں سردیوں میں شکار کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

تاہم اس کے باوجود وہ بسا اوقات کوٹے سے تجاوز کر جاتے ہیں۔

2014 میں ایک سرکاری رپورٹ منظر عام پر آئی تھی جس کے مطابق ایک سعودی شہزادے نے اپنے 21 روزہ دورے کے دوران دو ہزار سے زائد پرندوں کا شکار کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

چند دن پہلے ملک کے قومی اخبارات میں بعض ایسی خبریں شائع ہوئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے قطری شہزادوں کو تلور کا شکار کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ ان خبروں کے شائع ہونے پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں ایک بحث شروع ہوئی تھی جس میں حکومت کے فیصلے پر کڑی تنقید کی گئی تھی۔

یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ کچھ عرصہ سے غیر ملکی میڈیا میں بھی پاکستان میں تلور کے شکار سے متعلق رپورٹیں شائع ہو رہی ہیں جس میں اس نایاب پرندے کے معدوم ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

اسی بارے میں