پی آئی اے کے چیئرمین نے استعفیٰ دے دیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اعظم سہگل کی تعیناتی پر بھی کئی حلقوں کی طرف سے اعتراضات اٹھائے گئے تھے

پاکستان کی قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کے ایک اے ٹی آر طیارے کے حادثے میں سینتالیس افراد کی ہلاکت کے چند دن بعد پی آئی اے کے چیئرمین اعظم سہگل نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

خیال رہے کہ بدھ کو پی آئی اے کے ٹی آر ٹی طیارے کو چترال سے اسلام آباد آتے ہوئے حادثہ پیش آیا تھا جس کے نتیجے جہاز میں سوار تمام مسافر اور عملے کے اراکین ہلاک ہو گئے تھے۔

پی آئی اے انتظامیہ کے ذرائع نے بی بی سی کے نمائندے طاہر عمران سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ چیئرمین اعظم سہگل مستعفی ہو گئے ہیں۔

پیر کی صبح پی آئی کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں مقامی میڈیا پر آنے والی ان خبروں کی سختی سے تردید کی جا رہی تھی کہ پی آئی اے کے چیئرمین کمپنی سے بھاری تنخواہ لیتے ہیں۔

ترجمان دانیال گیلانی نے ایک وضاحتی بیان جاری کیا تھا کہ ’اعظم سہگل پی آئی اے سے نہ تو کوئی تنخواہ لیتے ہیں اور نہ ہی کوئی مراعات لیتے ہیں۔‘

اس کے علاوہ انھوں نے بیان میں یہ کہا کہ چییرمین کا عہدہ نئے انتظامی ڈھانچے کے مطابق پی آئی اے کے بورڈ کے سربراہ کا عہدہ ہے اور اس کا کمپنی کے روزمرہ انتظامی امور سے براہ راست تعلق نہیں ہے، کیونکہ ادارے کے نئے انتظامی ڈھانچے کے مطابق کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کمپنی سے متعلقہ تمام انتظامات دیکھتے ہیں۔

پیر کی صبح ہی پاکستان میں ہوابازی کے نگران ادارے سول ایوی ایشن اتهارٹی کی جانب سے شیک ڈاؤن ٹیسٹ کے احکامات کے بعد پی آئی اے کے طیاروں کے ٹیسٹ شروع کیے جانے کی تصدیق کی گئی تھی۔

پی آئی اے کے مطابق یہ ٹیسٹ مکمل ہونے تک تمام اے ٹی آر طیاروں کی تمام پروازیں جزوی طور پر معطل رہیں گی اور تمام اے ٹی آر طیارے گراؤنڈ رہیں گے۔

اسی بارے میں