انڈیا کا پاکستان کو توڑنے کا دیوانہ خواب کبھی پورا نہیں ہوگا: چوہدری نثار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ انڈیا خود تقسیم کا شکار ہے اور اسے کسی دوسرے ملک نے نہیں بلکہ خود اس کی اپنی پالیسیوں نے تقسیم کیا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ یہ بات انڈین وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی جانب سے گذشتہ روز دیے گئے بیان کے جواب میں کہی۔

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ پاکستان کو توڑنے کا دیوانہ خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔

راج ناتھ سنگھ نے گذشتہ روز کہا تھا کہ اگر سرحدی دہشت گردی ختم نہ ہوئی تو جلد ہی پاکستان دس ٹکڑوں میں بٹ جائے گا۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہوتے ہوئے کسی اور کو انڈیا کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان انڈیا کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم نہیں کر رہا بلکہ انڈیا خود بی جے پی کی پالیسیوں کے باعث تقسیم ہو رہا ہے۔

چوہدری نثار نے مزید کہا کہ ’انڈیا میں کیسے وہ جماعت اور حکومت پاکستان پر الزام لگا سکتی ہے جن کی اپنی بنیادیں مذہبی انتہا پسندی، تقسیم کرنے کی پالیسی، نفرت اور تشدد پر مبنی ہوں۔‘

چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ انڈیا میں اقلیتوں کے لیے زندگی بہت مشکل ہو گئی ہے اور نریندر مودی کی حکومت میں اقلیتیں کئی خطرات اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

انھوں نے کہا کہ انڈیا کی حکومت نے پورے ملک میں نفرت کی ایک دیوار کھڑی کردی ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہاتھ بے گناہ کشمیریوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔

چوہدری نثار نے کہا کہ کلبھوشن یادیو اور دیگر بھارتی ایجنٹس کی پاکستان میں گرفتاریاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ انڈیا پاکستان کے معاملات میں مداخلت کررہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پاکستان کو یہ سمجھ نہیں آتی کہ دہشت گردی بہادروں کا نہیں بلکہ بزدلوں کا ہتھیار ہے: راج ناتھ

واضح رہے کہ انڈین میڈیا کی رپورٹس کے مطابق راج ناتھ سنگھ نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں خطاب کے دوران کہا تھا کہ '1971 میں پاکستان دو حصوں میں تقسیم ہوا تھا اور اگر پاکستان سرحد پار دہشت گردی سے باز نہ آیا تو عنقریب یہ دس ٹکڑوں میں بٹ جائے گا'۔

پاکستان پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام لگاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان کو یہ سمجھ نہیں آتی کہ دہشت گردی بہادروں کا نہیں بلکہ بزدلوں کا ہتھیار ہے'۔

یاد رہے کہ 8 جولائی کو انڈین سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں حالات کشیدہ ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں