ملا ہبت اللہ کا پروفائل، کچلاک مدرسے کا کوئی ذکر نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ AIP
Image caption ہبت اللہ اخوندزادہ، مولوی محمد خان کے صاحبزادے اور مولوی خدائے رحیم کے نواسے ہیں: طالبان

افغان طالبان نے اپنے امیر ملا ہبت اللہ اخوندزادہ کی پروفائل پانچ مختلف زبانوں میں شائع کی ہے جس میں ان کی روزمرہ زندگی اور شخصیت کے حوالے سے بات کی گئی ہے۔

پروفائل کے مطابق ان کے امیر ہبت اللہ اخوندزادہ، مولوی محمد خان کے صاحبزادے اور مولوی خدائے رحیم کے نواسے ہیں۔ ہبت اللہ اخوندزادہ کی پیدائش 15 رجب 1387 ہجری کو صوبہ کندھار کے ضلع پنجوائی کے گاؤں ناخونی میں ہوئی۔

ہبت اللہ اخوندزادہ افغان طالبان کے نئے امیر مقرر

ملا ہبت اللہ: ’کم جنگی تجربے کے حامل مذہبی رہنما‘

پروفائل میں ان کی روزمرہ زندگی کا ذکر کرتے ہوئے طالبان لکھتے ہیں ’ہبت اللہ اخوندزادہ مجلس میں اکثر خاموش رہتے ہیں مگر ضرورت کے موقع پر ان کی مختصر باتیں بہت مؤثر ہوتی ہیں۔‘

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے جاری کی گئی اس پروفائل میں اگرچہ یہ ذکر ہے کہ ملا ہبت اللہ اخوندزادہ گذشتہ دس سالوں سے مسلسل قرآن کریم کی تفسیر اور احادیث شریف کا درس دے رہے ہیں تاہم اس میں کوئٹہ کے مضافات میں کچلاک کے اُس مدرسے کا کوئی ذکر نہیں، جہاں ہبت اللہ اخوندزادہ ایک عرصے تک درس و تدریس کے فرائض سرانجام دیتے رہے تھے۔

طالبان کے بعض ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ جب ہبت اللہ اخوندزادہ کو طالبان کے دوسرے امیر ملا اختر منصور کا نائب منتخب کیا گیا تھا تو بہت سارے لوگوں نے انھیں اسی مدرسے میں مبارکباد دی تھی۔

ذرائع کے مطابق ہبت اللہ اخوندزادہ مئی 2016 تک اس مدرسے میں مقیم تھے۔ مئی 2016 میں طالبان کے اس وقت کے امیر ملا اختر منصور کو مارا گیا اور ان کی جگہ ہبت اللہ اخوندزادہ کو ان کا جانشین مقرر کیا گیا جسکے بعد وہ کچلاک کے اسی مدرسے سے نامعلوم مقام پر منتقل ہوئے۔

پروفائل میں یہ بتایا گیا ہے کہ سنہ 1980 کی دہائی میں افغانستان میں شورش کے بعد ہبت اللہ اخوندزادہ کے خاندان نے بھی ہجرت کی اور بلوچستان کے جنگل پیر علی زئی پناہ گزین کمپ میں پناہ لی۔

بین الاقوامی دنیا ایک عرصے سے پاکستان پر یہ الزام عائد کرتی آئی ہے کہ اس نے افغان طالبان کو کوئٹہ، پشاور اور قبائلی علاقوں میں کوئٹہ شوریٰ، پشاور شوریٰ اور میرانشاہ شوریٰ کے نام سے پناہ دی ہوئی ہے۔ اس الزام نے اس وقت زور پکڑا جب 19 مئی 2016 کو بلوچستان کے علاقے نوشکی کے قریب ایک امریکی ڈرون حملے میں طالبان رہنما ملا اختر منصور کو ہلاک کیا گیا۔

پاکستان اور طالبان دونوں ہی اس الزام کی سختی سے تردید کرتے چلے آ رہے ہیں۔

اسی بارے میں