پی آئی اے کے 34 مسافروں کی شناخت مکمل

پی آئی اے طیارہ فائل فوٹو
Image caption پی آئی کی چترال سے اسلام آباد جانے والی پرواز حویلیاں کے قریب گر کر تباہ ہوگئی تھی جس میں عملے کے پانچ ارکان سمیت تمام 47 افراد ہلاک ہوگئے تھے

پاکستان کی قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کے گذشتہ ہفتے تباہ ہونے والے طیارے کے 34 مسافروں کی شناخت مکمل ہو گئی ہے جب کہ توقع ہے کہ باقی 13 مسافروں کی شناخت جعمہ تک مکمل کر لی جائے گی۔

معروف نعت خواں جنید جمشید کی میت بھی شناخت کے بعد ان کے لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہے جسے آج رات سی 130 کے طیارے کے ذریعے کراچی تدفین کے لیے لے جایا جائے گا۔

’ڈی این اے رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں‘

جنید جمشید کی میت کی شناخت ہوگئی

پی آئی اے طیارہ حادثہ: جنید جمشید بھی چل بسے

وفاقی وزیر مملکت طارق فضل چوہدری نے میڈیا کو اب تک کی پیش رفت کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا اتنے بڑے سانحے کے بعد لاشوں کو ایک جگے رکھنا ممکن نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ روات کے سرد خانے میں سب کو رکھا گیا جہاں ان کی شناخت کا عمل اور ٹیسٹ بھی کیے جاتے رہے۔

واضح رہے کہ اس حادثے میں پاکستان کے نامور نعت خواں 52 سالہ سالہ جنید جمشید اپنی اہلیہ کے ہمراہ چترال میں تبلیغی دورے کے بعد اسلام آباد جا رہے تھے۔

پی آئی کی چترال سے اسلام آباد جانے والی پرواز حویلیاں کے قریب گر کر تباہ ہوگئی تھی جس میں عملے کے پانچ ارکان سمیت تمام 47 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ماضی کے معروف پاپ گلوکار جنید جمشید نے میوزک بینڈ وائٹل سائنز سے شہرت حاصل کی تھی۔

وہ لاہور میں واقع یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سے فارغ التحصیل تھے۔

سنہ 1987 میں ان کے گیت 'دل دل پاکستان' نے انھیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا تھا اور ان کے بینڈ کو پاکستانی 'پنک فلوائڈ' کے نام سے بھی یاد کیا جاتا تھا۔

جنید جمشید نے سنہ 2000 کے عشرے میں گلوکاری کو خیرباد کہہ دیا اور مذہب کی تبلیغ اور حمد و نعت سے وابستہ ہوگئے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں