’عالمی برادری انڈیا کی مداخلت اور غیر ذمہ دارانہ بیانات کا نوٹس لے‘

نفیس ذکریا ن تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے دفتر خارجہ نے انڈیا کے وزیرِ داخلہ راج ناتھ سنگھ کے حالیہ بیانات کو تمام سفارتی آداب، اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور دیگر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے جس میں علاقائی خودمختاری اور سالمیت کی ضمانت دی گئی ہے۔

حال ہی میں راج ناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ اگر سرحدی دہشت گردی ختم نہ ہوئی تو جلد ہی پاکستان دس ٹکڑوں میں بٹ جائے گا۔

پاکستان انڈیا کے درمیان ملاقات کی امیدیں معدوم

جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ میں دفتر خارجہ کے ترجمان دفتر خارجہ نفیس ذکریا نے کہا کہ عالمی برادری پاکستان میں انڈیا کی مداخلت اور دہشت گردی کی معاونت اورغیر ذمہ دارانہ بیانات کا نوٹس لے۔

انہوں نے بتایا کہ برطانوی اراکینِ پارلیمان کی جانب سے معاملہ اٹھانے پر برطانوی وزیراعظم ٹریزامے نے نریندر مودی سے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری مظالم کے معاملے پر بات کی ہے۔ جبکہ انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر برطانوی ارکانِ پارلیمان کی ایک بڑی تعداد نے انڈیا کے زیرِانتظام کشمیر میں جاری مظالم پر تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ انڈیا کی اقلیتیں مسلمان، عیسائی اور دلت خصوصی طور پر شدت پسند اور دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں۔

انھوں نے ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ پچھلے ایک سے ڈیڑھ سال کے دوران انڈیا میں دو سو سے زیادہ گرجا گھروں کو جلایا گیا ہے۔

نفیس ذکریا نے بتایا کہ پاکستان نے عالمی برادری سے انڈیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

نفیس ذکریا نے بتایا کہ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے عالمی بنک کا خط موصول ہوا ہے جس پر متعلقہ ادارے مشاورت کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق امریکی قیادت نے شدت پسندی کے خاتمے کے لیے پاکستانی کاوشوں کو سراہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption راج ناتھ سنگھ نےکہا تھا کہ اگر سرحدی دہشت گردی ختم نہ ہوئی تو جلد ہی پاکستان دس ٹکڑوں میں بٹ جائے گا

انہوں نے کہا کہ 20 میں سے پانچ شدت پسند گروہوں کے امیر افغانستان میں مارے گئے ہیں۔اس کے علاوہ دولتِ اسلامیہ خراساں گروپ، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان اور طالبان کے بعض ممبران بھی افغانستان میں ہیں۔

حقانی نیٹ ورک کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ جہاں تک بات حقانی نیٹ ورک کی ہے تو اس کے ثبوت اور رابطے افغانستان میں ملے ہیں۔

واضح رہے کہ وزارتِ خارجہ نے اس سے قبل بھی یہ بات کہی تھی کہ حقانی نیٹ ورک کے رہنماؤں کی افغانستان میں گرفتاریاں ثابت کر رہی ہیں کہ وہ افغانستان میں ہیں لیکن ان کے اس اصرار کو بین الاقوامی سطح پر اب بھی شک کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان پر الزام رہا ہے کہ وہ حقانی نیٹ ورک کے لیے نرم گوشہ رکھتا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نےایک بار پھر پاکستان میں دولتِ اسلامیہ کی منظم موجودگی کےامکان کو رد کرتے ہوئے کہا کہ کسی فرد کی جانب سے دعوے کو منظم موجودگی نہیں کہا جا سکتا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں