’ہماری سلیٹ اور آپ کا بلیک بورڈ صاف نہیں‘

پاکستانی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں یعنی قومی اسمبلی میں جمعرات کے روز پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایوان میں آکر وضاحت کریں کہ سپریم کورٹ میں اُن کے وکیل کا بیان درست تھا یا پھر وہ بیان درست تھا جو اُنہوں نے پارلیمنٹ میں دیا تھا۔

آج پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں پوائنٹ آف آڈر پر اپنی تقریر کے دوران شاہ محمود قریشی نے وزیرِ ریلوے سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ گذشتہ روز شور شرابے کے دوران پی ٹی آئی کے اراکین کو غنڈہ کہنے پر معافی مانگیں۔

جمعرات کے روز قومی اسمبلی کا اجلاس دو گھنٹے تاخیر سے شروع ہوا کیونکہ پیپلز پارٹی، پاکستان تحریکِ انصاف اور حکمراں جماعت کے پارلیمانی لیڈرز اسپیکر کے چیمبر میں گذشتہ روز کے شور شرابے کے بعد صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے مذاکرات کر رہے تھے۔

جب قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو چیمبر میں مذاکرات کے مطابق شاہ محمود قریشی کو پوائنٹ آف آڈر پر بولنے کی دعوت دی گئی۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کل اگر10 منٹ بولنے کی بات مان لی جاتی تو صورتحال خراب نہ ہوتی۔ اُنہوں نے اسپیکر قومی اسمبلی پر جانبدار ہونے کا الزام لگایا اور ایوان سے سوال کیا کہ گذشتہ روز پی ٹی آئی کے اراکینِ پارلیمان کو غنڈہ کہا گیا' کیا ہم غنڈے ہیں؟'

اِس پر اسپیکر ایاز صادق نے کہا کہ شور شرابے کی وجہ سے کل یہ الفاظ سنائی نہیں دیئے اگر مائیک پر یہ الفاظ ادا کیے گئے ہیں تو حذف کیے جائیں گے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا 'ہماری تحریکِ استحقاق اور التوا کو بغیر ہمارا موقف سنے مسترد کر دیا گیا اور چیمبر میں رولنگ دے دی گئی ہمیں بتایا ہی نہیں گیا' ہمارا موقف سن کر اور قائل کر کے یہی کام کیا جاتا تو صورتحال بے قابو نہیں ہوتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

شاہ محمود قریشی کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا کہ ' کل افسوس اِس بات کا نہیں ہوا کہ آپ نے شورشرابہ کیا اور میری نشست کو گھیر لیا بلکہ افسوس اِس بات پر ہوا کہ مقدس کتاب (آئین) کو اُچھالا گیا اور زمین پر پھینکا گیا'۔

اِس کے بعد خواجہ سعد رفیق نے پوائنٹ آف آڈر پر اپنے تقریر میں گذشتہ روز کے بارے میں کہا کہ انھوں نے غنڈہ گردی کہا تھا غنڈے نہیں ’لیکن اگر اِن الفاظ سے دل آزاری ہوئی تو میں اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں اور شاہ محمود بھی نواز شریف کے بارے میں اپنے الفاظ واپس لے لیں'۔

اُنھوں نے پیپلز پارٹی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آپکی سلیٹ بھی صاف نہیں ہے۔ ایک کی سندھ میں حکومت ہے اور ایک کی خیبر پختونخواہ میں لیکن وہاں کیا ہو رہا ہے؟ ' ایک ارب درختوں نے سلیمانی ٹوپی پہن لی نظر ہی نہیں آتے، جیلیں ٹوٹتی ہیں لیکن اُس پر کوئی بات نہیں کرتا'۔

خواجہ سعد رفیق کے بعد سید خورشید شاہ نے کہا ' ہماری سلیٹ صاف نہیں ہے تو آپکا بلیک بورڈ بھی صاف نہیں'۔

اِس کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس جمعے کی صبح ساڑھے 10 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر خواجہ سعد رفیق نے وزیرِ اعظم کے خلاف پی ٹی آئی کی جانب سے کل ادا کیے جانے والے ریمارکس واپس نہ لیے جانے پر افسوس کا اظہار کیا اور واضح کیا کہ وزیرِ اعظم نواز شریف ہر نکتے پر پارلیمان میں وضاحت نہیں کریں گے اُن کی طرف سے کابینہ کے وزراء ایوان میں وضاحت کر رہے ہیں کہ عدالت میں دیا جانے والا بیان دراصل پارلیمنٹ کے بیان کی واضح شکل تھا۔

اسی بارے میں