’تو پھر یہ جمہوریت ایک دھوکہ ہے‘

کوئٹہ کے سول ہسپتال پر دھماکے کے بعد سوگواران تصویر کے کاپی رائٹ Arshad Butt
Image caption کوئٹہ کے سول ہسپتال پر دھماکے کے بعد سوگواران

سوشلستان آج ایک عجیب پاکستان کی عکاسی کر رہا ہے جہاں دو سال قبل ہونے والے پشاور کے ہولناک واقعے کے باوجود 'عمران چور' 'ڈھاکہ ہم نہیں بھولے' اور جنید جمشید کے دکھ میں چلائے گئے ٹرینڈز نمایاں تھے اور پھر اچانک سے پشاور کے آرمی پبلک سکول کے ٹرینڈز سامنے آگئے۔ کوئٹہ کے ہسپتال میں بم دھماکے پر کمیشن کی رپورٹ کی بات بے شک کم ہو رہی ہے مگر ہم آج اسی کے ذکر سے آغاز کریں گے۔

'حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت'

جسٹس فائز عیسیٰ کی رپورٹ پر پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے لکھا '8 اگست کی تباہی پر جسٹس عیسیٰ کی رپورٹ حکومت کی جانب سے شدت پسند گروہوں کے خلاف نیشنل ایکشن پلان اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ پر عملدرآمد نہ کروانے میں ناکامی پر فردِ جرم ہے۔'

پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل میمن نے اس رپورٹ کو 'چوہدری نثار اور وفاقی حکومت کے خلاف چارج شیٹ' قرار دیا۔'

فراز احمد جان نے لکھا 'اگر کسی کو عزت 'تار تار' ہونے کے معنی جاننے ہوں تو وہ کوئٹہ رپورٹ پڑھے۔'

نسیم زہرہ نے لکھا 'کوئٹہ واقعے پر سپریم کورٹ کے انکوائری کمیشن نے وزارتِ داخلہ، نیکٹا اور وزارتِ داخلہ کی بدترین نااہلی اور تضادات کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔'

فاروق طارق نے لکھا 'کمیشن نے حکومت کے ممنوعہ تنظیموں اور مذہبی جنونیوں کے ساتھ روابط پر سے پردہ اٹھا دیا ہے۔'

طاہر ملک نے لکھا کہ 'رپورٹ کوئٹہ میں سکیورٹی ایجنسیوں کی امن و امان کے قیام میں ناکامی اور بری کارکردگی پر سے پردہ فاش کرتی ہے۔'

اور اسامہ صدیقی نے لکھا کہ 'کیا اس پر اب کوئی سیاسی قیمت ادا کرے گا؟ کیا کسی کو سزا ملے گی؟ نہیں تو پھر یہ جمہوریت ایک دھوکا ہے۔'

عزم کی پختگی کا اندازہ نعروں سے نہیں ہمارے اعمال سے ہو گا'

تصویر کے کاپی رائٹ "AFP PHOTO / ISPR
Image caption پشاور آرمی پبلک سکول میں 16 دسمبر کی تقریب میں شریک فوج کے سربراہ

پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے کو دو سال گزر گئے اور آج بھی سیاستدان اور فوج ایک جگہ اکٹھے ہو کر اس واقعے کی یاد نہیں منا سکے۔

ایم کیو ایم کے رہنما فیصل سبزواری نے لکھا 'آرمی پبلک سکول پشاور کے بعد ہم نے فیصلہ کیا تھا دہشت گردوں کا نیشنل ایکشن پلان سے مقابلہ کریں گے۔ ہمارے عزم کی پختگی کا اندازہ ہمارے اعمال سے ہو گا نہ کہ نعروں سے۔'

آصفہ بھٹو زرداری نے ٹویٹ کی کہ 'یہ ایک افسوسناک دن ہے اور الفاظ، یادگاری تقریبات اور مذمت دکھ کا مداوا نہیں کر سکتے صرف انصاف ہی معاملات کو درست کر سکتا ہے۔'

ریحام خان نے لکھا 'ہماری بے حسی کی حالت یہ ہے کہ دہشت گردی کے حملے کے دو سال بعد ان دنوں میں چند وعدے کیے گئے اور نیشنل ایکشن پلان پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔'

عاصمہ شیرازی کی ٹویٹ 'ہم نے اپنے بچوں کے قتلِ عام سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔ دہشت گردوں سے ہمدردیاں رکھنے والے اب بھی ہمارے اردگرد ہیں ان سے ہاتھ ملاتے ہوئے۔'

اس ہفتے کا تعارف

اس ہفتے ذکر کریں گے پاکستانی نژاد امریکی بینش احمد کا جو صحافت کے پیشے سے وابستہ ہیں اور نسل پرستی، خواتین اور ترقی پذیر ممالک میں پائے جانے والے مسائل کے حوالے سے لکھتی ہیں۔

اس ہفتے کی تصویر

تصویر کے کاپی رائٹ ARIF ALI
Image caption کوڑا کرکٹ اکٹھا کر کے گزر بسر کرنے والا ایک خاندان