اے پی ایس سانحہ: 'والدین کو خاموش کردیا گیا'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption والدین دو سال گزرنے کے باوجود انصاف کے منتظر ہیں: فائل فوٹو

پشاور میں آرمی پبلک سکول پر دہشت گرد حملے کی دوسری برسی پر اس حملے میں ہلاک ہونے والے بچوں کے والدین کی جانب سے کئی شکایات سامنے آئیں ہیں۔

حملے میں ایک سو چالیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سکول کے ایک سو بتیس طالب علم شامل تھے۔

طارق جان کے دو بیٹے حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔ وہ انتہائی دکھی ہیں اور کہتے ہیں کہ اے پی ایس کے متاثرین کے والدین کی تنظیم کو حکام نے خاموش کر دیا ہے اور یہ کہ وہ اس حملے سے متعلق کارروائی سے غیر مطمئن ہیں۔ 'دو سال ہو گئے ہیں، آج تک ہمارے بچوں کے مجرموں (قاتلوں) کا پتہ نہیں چلا۔ تفتیش میں کوئی ٹرانسپیرنسی نہیں ہے۔'

انھوں نے بی بی سی کے ریڈیو پروگرام سیربین سے بات کرتے ہوئے حکام پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم نے حملے کے وقت فوج کی کارروائی کے حوالے سے جو نکات اور مطالبات اٹھائے اس سے حکام نا خوش تھے اور انھیں آواز بلند کرنے سے روک دیا گیا۔

'ہمیں خاموش کیا گیا ہے۔ جب بھی میڈیا پر آئے اسے نشر ہونے سے روک دیا گیا۔ کیونکہ جب بھی آپ آرمی کا نام لیتے ہیں، کوئی تنقید کرتے ہیں تو میڈیا پر روک دیا جاتا ہے۔ وہ ہمیں بین کرتے ہیں۔'

تو کیا کوئی رکاوٹیں ڈالی گئی تنظیم کی سرگرمیوں میں؟ 'نہیں وہ تو میڈیا کے ذریعے ہماری آواز بند کر دی گئی۔ یہ نشر نہیں کرنا، یہ شائع نہیں کرنا۔ ہم تو دل کی بات کر لیتے لیکن پھر وہ شائع نہیں کرتے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اے پی ایس پر شدت پسندوں کے حملے میں ایک سو چالیس سے افراد ہلاک ہو گئے تھے

وہ کہتے ہیں کہ میڈیا والوں نے اس بات پر ان کو بتایا 'وہ تو صاف کہتے ہیں یہ تو ہمارا کاروبار ہے، ہم اپنے کاروبار کو بند نہیں کر سکتے۔'

طارق جان کہتے ہیں کہ آواز اٹھانے والے والدین کو ڈرانے کی کوشش بھی کی گئی۔ 'کہتے ہیں آپ کے بچے ہیں۔۔۔ پاکستان میں یہ ہو جائے گا، وہ ہو جائے گا۔ ایسی بات نہ کرو، ویسی بات نہ کرو۔‘

فوج پر وہ سخت تنقید کرتے ہی اور کہتے ہیں کہ وہ اے پی ایس حملے کے بعد حکومتی اقدامات سے مطمئن نہیں ہیں۔ 'یہ دہشت گرد بنائے کس نے؟ ہماری آرمی نے پوری عمر مراعات لیں۔ سرحدوں کی حفاظت تو اِن کا کام تھا نا۔ اب اگر وہ کہتے ہیں کہ اتنے دہشت گرد پاکستان میں گھُس آئے ہیں تو وہ کہاں سے آئے ہیں؟ کس کی غفلت کی وجہ سے آئے ہیں؟ اس کو آپ کیوں نہیں پکڑتے؟ آپ کے دور میں اتنی خرابی کیوں پیدا ہوئی ملک میں؟'

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اب بھی والدین کی تنظیم 'شہدا فورم' سرگرم ہے تو انھوں نے کہا 'ہمارے سر گرم کارکنوں کو وہ ایک ایک کر کے دباتے ہیں۔ ان کو لالچ وغیرہ دیتے ہیں، کچھ کو کچھ اور کہہ دیتے ہیں۔۔۔ پھر وہ بھی بولتے ہیں کہ یار ہمارے اور بھی بچے ہیں، ہم کیا کریں؟ تو ایسے وہ خاموش بیٹھ جاتے ہیں۔'

حملے کے وقت طارق جان کے بڑے بیٹے شمائل طارق نویں جماعت میں تھے اور دوسرے بیٹے منیال طارق آٹھویں میں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہر سال سولہ دسمبر ان کے لیے اتنا ہی مشکل ہوتا ہے جیسے کہ حملے کے روز تھا۔ وہ کہتے ہیں ان کی زندگی بالکل بدل گئی ہے۔ 'قیامت گزر رہی ہے ہم والدین پر، ہمارے بچوں پر، ہمارے گھر پر۔ میرے دو بیٹے شہید ہو گئے۔ دو بچے رہ گئے ہیں۔ ایک بہت دباؤ میں ہے اس واقعے کے بعد۔ دوسرا بیٹا ذہنی طور پر پریشان ہے، وہ سبق نہیں پڑھنا چاہتا، کہتا ہے مجھے نہیں پڑھنا۔ دو بیٹے چلے گئے، دو ہیں لیکن ان کی اب تعلیم تو رہ گئی۔'

اسی بارے میں