قطری شاہی خاندان کو تلور کے شکار کے لائسنس کا اجرا لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

تلور
،تصویر کا کیپشن

تلور اب نایاب پرندوں میں شمار ہوتا ہے اور اس پرندے کی نسل کو شدید خطرہ ہے

قطر کے شاہی خاندان کے افراد کو پاکستانی حکومت کی جانب سے شکار کھیلنے کی اجازت دینے کے لیے نئے لائسنس کے اجرا کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں قانون دان سردار کلیم الیاس نے ایک درخواست دائر کی ہے جس میں پرندوں کے شکار کے لیے نئے لائسنس کے اجرا کو چیلنج کیا گیا ہے۔

درخواست میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ہائیکورٹ نے تلور کے شکار پر عدالتی پابندی عائد کر رکھی ہے لیکن اس کے باوجود وفاقی حکومت نے شکار کی اجازت کے لیے پرمٹ یا لائسنس جاری کیے ہیں۔

قطر کے شاہی خاندان کے افراد نے گذشتہ دنوں پنجاب کے ضلع بھکر کے علاقے میں تلور کا شکار کھیلا جس پر وہاں کے مقامی چھوٹے کسانوں نے احتجاج بھی کیا۔

کسانوں کا موقف ہے کہ سال بھر ان کے علاقے میں ایک ہی فصل ہوتی ہے اور تلور کے شکار کے دوران شکاری ان کی چنے کی فصل برباد کر دیتے جس کی وجہ سے وہ پریشان ہیں۔

درخواست گزار وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ تلور سمیت دیگر ہجرت کرکے پاکستان آنے والے پرندوں کا شکار عالمی معاہدوں کی نفی ہے۔

،تصویر کا کیپشن

ہائیکورٹ نے تلور کے شکار پر عدالتی پابندی عائد کر رکھی ہے

سردار کلیم الیاس ایڈووکیٹ نے اپنی درخواست میں یہ قانونی نکتہ بھی اٹھایا کہ تلور سمیت دیگر پرندوں کے شکار کے لیے لائسنس کا اجرا وائلڈ لائف ایکٹ 2007 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

وکیل کے مطابق وائلڈ لائف ایکٹ پرندوں سمیت دیگر جنگلی حیات کی حفاظت کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔

درخواست میں یہ نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ ہجرت کرکے پاکستان آنے والے پرندے تلور اب نایاب پرندوں میں شمار ہوتا ہے اور اس پرندے کی نسل کو شدید خطرہ ہے۔

وکیل نے درخواست میں یہ خدشہ ظاہر کیا کہ تلور کے شکار کی اجازت دینے سے اس پرندے کی نسل تیزی سے کمی آئے گی۔

پرندوں کے شکار کی اجازت کے خلاف میں وکیل نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ وفاقی حکومت کو نایاب پرندوں کے شکار کی اجازت دینے کا کوئی اختیار نہیں ہے جبکہ صوبائی حکومت کو شکار کی اجازت کے لیے قانون میں ترمیم کی ضرورت ہے۔

درخواست گزار وکیل نے استدعا کی کہ کہ انصاف کا تقاضا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے تلور سمیت ہجرت کرکے پاکستان آنے والے پرندوں کے شکار کے لائسنس یا پرمٹ منسوخ کیے جائیں۔