’کمیشن کی رپورٹ میں ذاتی الزام لگے ہیں: نثار

چوہدری نثار علی خان تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مبنی ایک رکنی کمیشن نے 56 دنوں کی کارروائی کے بعد اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت نفرت انگیز تقاریر اور شدت پسندی پر مبنی پروپیگنڈا روکنے میں ناکام رہی ہے

پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی نے کہا ہے کوئٹہ کمیشن رپورٹ میں ان پر لگائے گئے الزامات کے حوالے سے وہ سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ سمیت ہر فورم پر اپنا اور وزارتِ داخلہ کا موقف پیش کریں گے۔

انھوں نے یہ بات سنیچر کو اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔

انھوں نے کہا 'اس رپورٹ میں صرف سرکاری نہیں، ذاتی سطح پر بھی الزامات لگائے گئے۔ مجھے رنج ہوا کہ کہا گیا کہ وزیرداخلہ نے جھوٹ بولا۔'

انھوں نے کہا کہ وہ اپنا موقف جمعہ کو ہی دے دیتے 'لیکن تاخیر کا سبب یہ تھا کہ میں نے وزیر اعظم سے کہا تھا کہ میں استعفیٰ دے کر ان الزامات کا سامنا کروں گا لیکن وزیر اعظم نے میرے استعفے کی پیشکش رد کردی۔'

یاد رہے کہ صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں آٹھ اگست کو سول ہسپتال میں ہونے والے خود کش حملے پر قائم عدالتی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں صوبائی حکومت اور دیگر حکومتی اداروں کے کردار پر کڑی تنقید کی تھی۔

اگست میں ہونے والے اس خود کش حملے میں 70 افراد ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد سپریم کورٹ کے کمیشن نے اس واقعے کی تحقیقات کے بعد تفصیلی رپورٹ جاری کی۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مبنی ایک رکنی کمیشن نے 56 دنوں کی کارروائی کے بعد اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت نفرت انگیز تقاریر اور شدت پسندی پر مبنی پروپیگنڈا روکنے میں ناکام رہی ہے۔

چوہدری نثار علی نے کہا کہ کمیشن نے ان سے پانچ سوالات پوچھے تھے جن کے جواب انھوں نے کمیشن کو جمع کروائے۔

انھوں نے کہا کہ سکیورٹی کے حوالے سے 'کامیابیوں ہوتی ہیں تو بہت سارے دعویدار نکل آتے ہیں اور 'ناکامیاں میری وزارت کی ذمہ داری نہ بھی ہوتے ہوئے میری وزارت پر ڈال دی جاتی ہیں'۔

انھوں نے بتایا کہ 'جب نیکٹا میرے حصے میں آیا تو اسلام آباد میں ایک کرائے کے مکان میں (اس کا دفتر) تھا جس کا چھ ماہ سے لاکھوں روپے کا کرایہ بھی ادا نہیں کیا گیا تھا۔گذشتہ ڈھائی سالوں میں 7774 انٹیلیجنس ایکسرپٹس (یعنی معلوماتی دستاویز) دیگر اداروں کے ساتھ شیئر ہوئی ہیں۔'

کوئٹہ کمیشن کی جانب سے سوالات کے بارے میں وزیرِ داخلہ نے بتایا کہ ان سے پانچ سوالات کیے گئے جو کہ مندرجہ ذیل ہیں:

  1. آپ اہل سنت و الجماعت کے وفد سے کیوں ملے؟
  2. اہلِ سنت و جماعت کو اسلام آباد میں جلسے کی اجازت کیوں دی گئی؟
  3. نیکٹا ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں تاخیر کی کیا وجہ ہے؟
  4. نیکٹا کے بورڈ آف گونر کا اجلاس کیوں نہیں ہوا؟
  5. وزارتِ داخلہ میں سپیشل سیکرٹری کیوں تعینات ہیں؟

پاکستان میں وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نے کہا ہے کہ وزارتِ داخلہ کو نہیں معلوم تھا کہ دفاعِ پاکستان کونسل کے وفد کے ساتھ مولانا لدھیانوی بھی ملاقات کرنے کے لیے آئیں گے۔

کوئٹہ کمیشن رپورٹ پر اپنا ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ 'میں وکیل نہیں ہوں تو مجھے یہ سمجھ نہیں آئی کہ ہمارا موقف سنے بغیر یکطرفہ رپورٹ کیسے سامنے آگئی۔'

چوہدری نثار علی کا کہنا تھا کہ جب وفد ملاقات کے لیے پہنچ گیا تو مجھے معلوم ہوا کہ اس مولانا لدھیانوی بھی شامل ہیں۔ انھوں نے کہا 'کیا میں ان سے کہتا کہ مولانا لدھیانوی نکل جائیں؟'

حال ہی میں مقامی میڈیا میں ایک تصویر شائع کی گئی جس میں وزیرِ داخلہ کو مولانا لدھیانوی سمیت دیگر مذہبی جماعتوں کے سربراہاں کے ساتھ ملاقات کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

مولانا لدھیانوی اہل ِ سنت و الجماعت کے اہم رہنما ہیں اور اس جماعت پر پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات اور شیعہ مسلک کے افراد کے قتل میں ملوث ہونے کے الزامات رہے ہیں۔

وزیرِ داخلہ نے بتایا کہ انھوں نے کمیشن کو بتایا کہ وہ اہلِ سنت و الجماعت کے وفد سے نہیں ملے بلکہ دفاعِ پاکستان کونسل کے وفد سے ملے تھے جس کی قیادت مولانا سمیع الحق کر رہے تھے۔ اہلِ سنت و الجماعت کو جلسے کی اجازت کے حوالے سے وزیرِ داخلہ نے کمیشن کو بتایا کہ یہ ان کی نہیں بلکہ ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری ہوتی اور اس حوالے سے ان کے پوچھنے پر بتایا گیا ہے کہ نہ اجازت مانگی گئی اور نہ ہی دی گئی۔

اسی بارے میں