’حکومت نے آئی ایس آئی، آئی بی کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا ہوا ہے‘

پاکستانی پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو آگاہ کیا گیا ہے کہ مسلم لیگ نواز کی حکومت نے خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) اور انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کو اخراجات کی آڈٹ سے استثنیٰ دیا ہوا ہے۔

آڈیٹر جنرل آف پاکستان رانا اسد امین نے کمیٹی کو بتایا کہ حکومت نے فنانس ایکٹ 2014 کے ذریعے آئی ایس آئی اور آئی بی کے اکاؤنٹس کو عملی طور پر آڈٹ سے مستثنیٰ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں ان اداروں کے اکاؤنٹس کو آڈٹ کرنے کے لیے اب اس بل کے مطابق حکومت سے منظوری چاہیے ہوتی ہے۔

پبلک اکاونٹس کمیٹی کے سربراہ اور پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی اور قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کی صدارت میں اس اجلاس میں یہ بات وزارت داخلہ کے نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل کے حوالے سے خفیہ اداروں کے فنڈز کے آڈٹ کی جانچ پڑتال کے دوران سامنے آئی۔

رکن قومی اسمبلی اور کمیٹی کے ممبر شفقت محمود کی جانب سے خفیہ فنڈز کی آڈٹ کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں رانا اسد امین کا کہنا تھا کہ 2013 سے مختلف وزارتوں کے خفیہ فنڈز کو جاری کرنے کا سلسلہ ختم کردیا گیا ہے۔ تاہم یہ دونوں خفیہ ایجنسیاں اب بھی خفیہ فنڈز کو استعمال کر رہی ہیں۔

محمود خان اچکزئی نے اجلاس میں کمیٹی کو اس بارے میں حریف بنانے کی تجویز دی جو سپریم کورٹ میں ایک آئینی پٹیشن دائر کرسکتی ہے تاکہ آڈیٹر جنرل کو ان اکاؤنٹس کی آڈٹ کا اختیار دیا جاسکے۔ اس تجویر کو کمیٹی نے منظور نہیں کیا۔

حکومت نے اس سال 21 جون کو فنانس ایکٹ کی منظوری دی تھی جس کے محظ چار روز بعد صدر نے اس پر دستخط کر کے اسے قانونی شکل دی دی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں