توہین مذہب قانون کا پاکستان میں ارتقاء

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مذہب سے متعلق جرائم کی سزاؤں کی ابتدا برٹش انڈیا، جس میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جو آج پاکستان ہیں، کے نوآبادیاتی دور میں ہوئیں۔ اس کا جواز یہ تھا کہ ہندؤوں اور مسلمانوں کے درمیان مذہبی تشدد کو روکا جاسکے۔ ان میں سیکشن 295، 296، 297 اور 298 شامل تھے جو 1860 میں متعارف کروائے گئے۔ 295-اے بعد میں 1927 میں شامل کیا گیا تھا۔

فوجی آمر جنرل محمد ضیاء الحق (1977-1988) کے مذہبی طور پر قدامت پسند دور میں توہین مذہب کے خلاف اضافی قوانین متعارف کروائے گئے جو خصوصی طور پر اسلام سے متعلق تھے۔ ان میں واضح طور پر احمدی مسلم اقلیت کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان میں سیکشن 295۔بی (1982)، 295۔سی (1986)، 298۔اے (1980)، 298۔ بی اور 298۔ سی (دونوں 1984) میں شامل ہیں۔

آج پاکستان کے پینل قانون میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا قانون سیکشن 295۔اے (مذہبی جذبات ابھارنے، غم و غصہ پھیلانے)، 295۔ بی (قرآن کی بےحرمتی کرنا)، 295۔ سی (پیغمر اسلام کے نام کی بےحرمتی) اور 298 ۔ اے (پیغمبر اسلام کے خاندان، ان کے ساتھیوں یا کسی بھی خلیفہ کی بےحرمتی) ہیں۔ ان میں سے اکثر قوانین کے تحت جب الزام عائد کیا جاتا ہے تو پولیس کو اختیار ہے کہ وہ ملزم کو گرفتار کرسکتی ہے کسی وارنٹ کے بغیر اور اپنی تحقیقات مجسٹریٹ کی عدالت کے حکم کے بغیر تحقیقات کا آغاز کرسکتی ہے۔

جنرل محمد ضیاء الحق کے دور میں وفاقی شرعی عدالت 1980 میں قائم کی گئی تاکہ وہ 'جائزہ لے سکے اور اس بات کا فیصلہ کرسکے کہ کوئی قانون یا اس کا پہلو اسلامی تعلیمات کے خلاف تو نہیں ہے۔' جب تک حکومت سپریم کورٹ کی شریعت ایپلیٹ کورٹ میں کامیاب اپیل نہیں کرتی، وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے حتمی ہیں۔

وفاقی شرعی عدالت نے 1990 می جماعت اسلامی کی ایک درخواست کے جواب میں فیصلہ دیا کہ 295 ۔ سی کے قانون کے تحت سزائے موت لازم ہے۔ اس وقت وزیر اعظم نواز شریف کی مذہبی طور پر قدامت پسند حکومت نے اس فیصلے کے خلاف اپیل نہیں کی تھی جس سے یہ پاکستان کی تمام عدالتوں میں لازم قرار پائی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں