بونیر میں خواجہ سراؤں کے مجروں پر پابندی

خواجہ سرا تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بونیر ملاکنڈ ڈویژن کا ایک ضلع ہے جو چار سب ڈویژنوں پر مشتمل ہے لیکن خواجہ سراؤں پر پابندی صرف خدوخیل سب ڈویژن میں عائد گئی ہے

خیبر پختونخوا کے ملاکنڈ ڈویژن کے ضلع بونیر میں ضلعی انتظامیہ نے خواجہ سراؤں کے ناچ گانے اور مجروں پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔

اسسٹنٹ کمشنر سب ڈویژن خدوخیل بونیر کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ علاقے کے مشران، عمائدین اور عوامی نمائندوں کی جانب سے دائر کردہ ایک تحریری درخواست پر کیا گیا ہے۔

خواجہ سراؤں کی مردم شماری کے حوالے سے وفاقی حکومت سے جواب طلب

فارم میں جنس شامل نہ کرنے پر خواجہ سراؤں کا عدالت سے رجوع

پشاور: زخمی خواجہ سرا دم توڑ گئے

اعلامیے کے مطابق درخواست میں کہا گیا ہے کہ خواجہ سراؤں کے ناچ گانوں اور مجروں سے علاقہ کا پر امن ماحول خراب ہو رہا ہے اور جس سے اکثر اوقات نوجوانوں کی آپس میں لڑائیاں بھی ہوتی رہتی ہیں۔

اعلامیے میں مذید کہا گیا ہے کہ ان پروگراموں میں علاقے کے نوجوان لڑکے شراب نوشی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان پروگراموں میں اسلحے کی کھلے عام نمائش کی جاتی ہے جس سے بیشتر اوقات امن و عامہ کے مسائل پیدا ہوتے ہیں لہذا ایسے پروگراموں کی مزید اجازت نہیں دی جائے گی۔

اعلامیے میں پولیس اور تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ آئندہ سے خدوخیل سب ڈویژن کی حدود میں خواجہ سراؤں کو آنے کی اجازت نہ دی جائے اور تمام تھانوں کو اس بارے میں آگاہ کر دیا گیا ہے۔

بونیر ملاکنڈ ڈویژن کا ایک ضلع ہے جو چار سب ڈویژنوں پر مشتمل ہے لیکن خواجہ سراؤں پر پابندی صرف خدوخیل سب ڈویژن میں عائد گئی ہے۔ اس علاقے کی سرحدیں صوابی اور مردان کے اضلاع سے ملتی ہیں۔

خدوخیل سب ڈویژن سے منتخب عوامی نیشنل پارٹی کے تحصیل ناظم گلزار حسین کا کہنا ہے کہ علاقے کے عمائدین، تبلیغی جماعت کے مشران اور مقامی علما پر مشتمل ایک نمائندہ جرگہ کچھ عرصہ سے مقامی انتظامیہ سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ خواجہ سراؤں کے مجروں سے علاقہ میں فحاشی پھیل رہی ہے لہذا اس پر پابندی عائد کی جائے۔

انھوں نے کہا کہ بونیر کے عوام ثقافتی پروگراموں اور حجروں میں ہونے والے موسیقی کی محفلوں کے مخالف نہیں اور نہ کبھی ان پر پابندی عائد کرنے کا سوچ سکتے ہیں۔

ناظم کے مطابق بونیر میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ پہاڑی اور دور دراز کے مقامات پر نوجوان طبقہ نشے میں دھت ہوکر اس طرح کے مجروں کا انعقاد کرتے ہیں جس میں خواجہ سرا قابل اعتراض لباس پہن کر شرکت کرتے ہیں جو پشتونوں کے روایات کے بھی بالکل منافی ہے۔

گلزار حسین نے مذید کہا کہ اس سلسلے میں صوابی میں خواجہ سراؤں کی یونین سے کئی مرتبہ بات بھی کی گئی اور ان کو مقامی جرگہ کے خدشات سے آگاہ کیا گیا لیکن انطوں نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی۔

تحصیل ناظم نے اس بات کی وضاحت کی کہ خواجہ سرا معاشرے کا ایک محروم طبقہ ہے اور ان کے حقوق کا ضرور خیال رکھنا چاہیے لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ وہ فحاشی پھیلائیں اور مقامی روایات کی خلاف ورزی کریں۔

انھوں نے کہا کہ خواجہ سراؤں کو بھی غیر اخلاقی سرگرمیوں سے اجتناب کرنا چاہیے اور مقامی جرگوں کا احترام کیا جائے۔

خیبر پختونخوا میں کچھ عرصہ سے خواجہ سراؤں کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے جس میں کئی خواجہ سرا مارے گئے ہیں۔

اسی بارے میں