اسلام آباد میں اب ہندو اجتماعی مذہبی رسومات ادا کر سکیں گے

تصویر کے کاپی رائٹ Shiraz hassan
Image caption اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی میں ہندوؤں کا مندر موجود ہے

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے انتظامی ادارے نے شہر میں مقیم ہندو برادری کے دیرینہ مطالبے کو پورا کرتے ہوئے مذہبی رسومات کے لیے جگہ فراہم کی ہے۔

اسلام آباد کے ڈپٹی مئیر ذیشان نقوی نے بی بی سی کو بتایا کہ ہندو برادری کا ایک عرصے سے مطالبہ تھا کہ دارالحکومت میں آخری رسومات کے لیے شمشان گھاٹ، کمیونٹی سینٹر اور مندر ہونا چاہیے اور اس کے لیے سیکٹر ایچ میں چار کنال کا پلاٹ دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس پلاٹ پر ہندو برادری کی مشاورت سے تعمیرات کی جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ مختص کیے گئے پلاٹ کے ساتھ بدھ مذہب کی رسومات کے لیے جگہ موجود ہے اور اس سے پہلے ہندو برادری کو ایک دو بار آخری رسومات کے لیے شمشان گھاٹ کو استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی لیکن اب ان کا اپنا شمشان گھاٹ اور دیگر سہولیات دستیاب ہوں گی۔

اسلام آباد میں ہندو پنجائت کے جنرل سیکریٹری اشوک چند کے مطابق شہر میں ہندوؤں کی مذہبی رسومات کے لیے جگہ دینے کا مطالبہ کافی پرانا ہے اور بینظیر بھٹو کی حکومت میں بھی اس مسئلے کو اٹھایا گیا لیکن شنوائی نہیں ہوئی لیکن اس مطالبے میں زیادہ شدت گذشتہ سات آٹھ برس میں زیادہ آئی۔

انھوں نے کہا ہے کہ اس وقت اسلام آباد میں 125 کے قریب ہندو خاندان آباد ہیں اور کل ایک ہزار کے قریب افراد ہیں۔

اشوک چند نے جگہ ملنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کے لیے طویل جد وجہد کرنا پڑی جس میں نیشنل کمیشن آف ہیومن رائٹس نے بہت مدد کی۔

انھوں نے بتایا کہ پہلے ہمیں کہا گیا تھا کہ بدھ برادری کے لیے مختص جگہ 'راجا تری دیو' کو اپنی آخری رسومات کے لیے استعمال کر سکتے ہیں لیکن حقوق انسانی کے کمیشن نے اس کی مخالفت کی اور کہا کہ بدھ برادری کے حق کو کیوں مار رہے ہیں اور ہندو بھی پاکستان کے شہری ہیں اور انھیں اپنا حق ملنا چاہیے۔

اشوک چند کے مطابق اسلام آباد میں مقیم ہندو برادری کی زیادہ تعداد کا تعلق سندھ سے ہے اور آخری رسومات کے لیے واپس سندھ جانا پڑتا ہے۔

اس کے علاوہ راولپنڈی اور اٹک میں ایک شمشان گھاٹ ہے اور اسے ضرورت پڑنے پر استعمال کیا جاتا ہے۔

اشوک چند نے کہا ہے کہ جگہ مل گئی ہے لیکن اب اس پر ہمیں انتظار ہے کہ اس پر کمیونٹی سینٹر، مندر اور شمشان گھاٹ جلد سے جلد تعمیر ہو جائے اور اس پر حکومت سے توقع ہے کہ وہ مدد کرے گی کیونکہ ہماری برادری اپنے طور پر یہ نہیں کر سکتی ہے لیکن اگر پھر بھی حکومت کی جانب سے کوئی مالی مدد نہیں ملی تو تھر چندہ اکٹھا کر کے یہاں مندر اور دیگر سہولیات تعمیر کریں گے۔

چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ صدیق الفاروق نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اسلام آباد میں ہندؤوں کے لیے مندر اور دیگر سہولیات میں مدد کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Shiraz hassan

پاکستان میں گذشتہ کچھ عرصے سے اقلیتوں کے لیے کئے جانے والے اقدامات کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ تقریباً تین برس پہلے جب انھوں نے متروکہ وقف املاک بورڈ کا انتظام سنبھالا اور جب مندروں کی بات کرتا تھا تو جواب ملتا تھا کہ انڈیا میں تو مسلمانوں کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔

صدیق الفاروق کے مطابق اس پر انھیں بتانا پڑتا ہے کہ یہاں پر ہندو پاکستان کے شہری ہیں اور آئین کے مطابق انھیں تمام حقوق حاصل ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ اب حکومت کے اقدامات سے دنیا میں پاکستان کے بارے میں اقلیتوں کے حوالے سے منفی پراپیگنڈا ختم ہونے میں مدد ملے گی۔

خیال رہے کہ پاکستان میں ہندو برادری کی ایک بڑی تعداد نے مذہب کی جبری تبدیلی، تعصب اور حقوق نے ملنے جیسے عوامل کی وجہ سے انڈیا ہجرت کی ہے۔

اسی بارے میں