’بدعنوانی پانچ ہزار کا کرنسی نوٹ ختم کرنے سے کم نہیں ہو گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انڈیا کے بعد پاکستان میں بھی کالے دھن پر قابو پانے کے لیے بڑے کرنسی نوٹ ختم کرنے کی تجاویز سامنے آ رہی ہیں لیکن معاشی امور کے ماہرین کے مطابق ملک میں غیر قانونی لین دین کے استعمال کو روکنے کے لیے زیادہ توجہ ٹیکس اصلاحات پر دینی چاہیے۔

ملک کے ایوانِ بالا میں حزب مخالف کے سینیٹر عثمان سیف اللہ خان نے5000 روپے کے کرنسی نوٹوں کو ختم کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس نوٹ کو غیرقانونی لین دین کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

اس پر ماہر اقتصادیات ڈاکٹر اشفاق حسن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانچ ہزار روپے کے کرنسی نوٹ کوختم کرنے سے رشوت ستانی کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے کیونکہ بڑے نوٹ غیر قانونی لین میں سہولت پیدا کرتے ہیں جس میں اگر کسی کو بڑی رقم کی ادائیگی کرنی ہے تو وہ آسانی سے بڑے نوٹوں کی صورت میں دے سکتا ہے لیکن اگر یہ ہی ایک ہزار یا پانچ سو کے نوٹ ہوں تو اسے بریف کیس بھر کر لے جانا پڑے گا۔

ڈاکٹر اشفاق حسن کے مطابق پانچ ہزار کا نوٹ ختم کرنے سے رشوت ستانی کا راستہ بند نہیں ہو سکتا مگر یہ کسی حد تک رکاؤٹ پیدا کرے گا لیکن اصل کام ملک میں ٹیکس اصلاحات ہیں۔

انھوں نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہر حکومت نے ٹیکس اصلاحات کی بات کی اور کسی حد ایسا کیا بھی لیکن اصل بات اس پر قائم رہنے اور پابند ہونی کی ہے۔

'اس وقت ٹیکس محصولات اکٹھا کرنے والے ادارے ایف بی آر میں سنگین مسائل ہیں کیونکہ ملکی قیادت ٹیکس اصلاحات پر سنجیدہ نہیں ہے، اور تھوڑے دنوں بعد ٹیکس سے استثنیٰ کی سکیم لے آتے ہیں جس کی مثال وجودہ حکومت ہے جس نے حال ہی میں تیسری ٹیکس ایمنسٹی دی ہے۔ اگر حکومت اصلاحات میں سنجیدہ ہو اور یہ ان کے ایجنڈے میں شامل ہو تو کبھی ایسا کام نہیں کیا جاتا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ماہر معاشیات خرم شہزاد کے مطابق ملک میں کئی جائزوں کی بنیاد پر اندازے لگائے گئے ہیں کہ اس وقت ملک کی مجموعی معیشت کے پچاس سے ستر فیصد حصے کے درمیان غیر رسمی معیشت یا کالے دھن کی بنیاد پر چلنے والی معاشی سرگرمیاں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ بڑے کرنسی نوٹ ختم کرنے سے غیر قانونی لین دین کو کم کرنے کی ایک کوشش ہو سکتی ہے لیکن جب ٹیکس محصولات کے دائرہ بڑھاتا جائے گا تو اس سے کالے دھن بھی خود ہی کم ہونا شروع ہو جائے گا۔

'اگر ہمارا حکمرانی کا نظام بہت ہو گا تو ٹیکس دینے والے بھی سامنے آئیں گے اور اگر ان کا پیسہ ٹھیک جگہ پر لگے گا تو اس سے معیشت بھی بہتر ہو گی اور عام آدمی کو بھی فائدہ پہنچے گا۔'

اسی بارے میں