نیب کا مشتاق رئیسانی کو دو ارب میں چھوڑنے کے فیصلے کا دفاع

مشتاق رئیسانی

پاکستان میں انسداد بدعنوانی کے قومی ادارے قومی احتساب بیورو (نیب) نے اپنے اس فیصلے کا دفاع کیا ہے جس کے تحت بلوچستان کے سابق سیکرٹری خزانہ مشتاق احمد ریئسانی کو دو ارب روپے کی رقم جمع کروانے پر چھوڑ دیا جائے گا۔

قومی احتساب بیورو نے مشتاق رئیسانی کی پلی بارگین کی درخواست بدھ کو منظور کر لی تھی۔

ترجمان نیب کے مطابق مشتاق رئیسانی کی 2 ارب روپے کی پلی بارگین کی درخواست منظور کی گئی ہے۔

وہ آئندہ دس سال تک کسی سرکاری ملازمت کے لیے نااہل ہوں گے اور کسی بینک سے قرضہ بھی نہیں لے سکیں گے۔

مشتاق رئیسانی کی نیب میں پلی بارگین پر مختلف حلقوں کی جانب سے اسے مجرم کے ساتھ رعایت کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔

اس فیصلے کے مخالفین کا کہنا تھا کہ جب مجرم پر میبنہ طور پر ’چالیس ارب‘ کی خوردبرد کا الزام ہے تو محض دو ارب روپے ادا کر کے رہائی حاصل کرنا مناسب نہیں۔

انٹیلیجنس بیورو کے سابق سربراہ مسعود شریف خٹک نے ایک ٹویٹ میں نیب کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب ہے کرپشن کو ہاں کہنا۔ ’پلی بارگین کا مطلب ہے کہ نیب کرپٹ شخص کو کہہ رہا ہے چلو مل کر پنپیں۔‘

Image caption مشتاق رئیسانی کے گھر پر چھاپے کے دوران 60 کر وڑ روپے کی مالیت سے زائد کی ملکی اور غیر ملکی کر نسی برآمد کی گئی

ایک نجی ٹی وی چینل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے نیب کے ترجمان نوازش علی نے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس سے خزانے کو پلی بارگین کی تاریخ میں سب سے بڑی رقم یعنی دو ارب روپے حاصل ہوں گے تاہم انھوں نے اس فیصلے پر تنقید کو بےجا قرار دیا۔

انھوں نے 40 ارب روپے کی بدعنوانی کے الزام پر کچھ نہیں کہا ہے۔ ان کا اصرار تھا کہ نیب متحرک ہے اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔

سیکرٹری خزانہ بلوچستان مشتاق رئیسانی پر ابتدا میں ڈھائی ارب روپے کرپشن کا الزام تھا جس کے بعد نیب نے ان کے گھر پر چھاپہ مارکر 75 کروڑ روپے سے زائد نقد رقم برآمد کی تھی۔

اس کے علاوہ ان کی کراچی میں بھی کروڑوں روپے مالیت کی جائیداد کا انکشاف ہوا تھا۔ نیب نے مشتاق رئیسانی کی گرفتاری کے بعد مشیر خزانہ بلوچستان خالد لانگو کو بھی گرفتار کیا تھا۔

قومی احتساب بیورو کے اعدادوشمار کے مطابق 31 جنوری 2016 تک نیب میں زیر تفتیش مقدمات کی تعداد 328 ہے اور 607 شکایات پر انکوائری جاری ہے۔

نیب کے ڈائریکٹر آپریشنز ظاہر شاہ کا کہنا ہے کہ چیئر مین نیب کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ پلی بارگین کی درخواست کو تسلیم کرے لیکن اس کی منظوری کا اختیار عدالت کے پاس ہے۔

انھوں نے بتایا کہ مشتاق رئیسانی کے مکان سے 65 کروڑ 32 لاکھ روپے نقدی، تین کلو سونا جس کی مالیت ایک کروڑ 35 لاکھ روپے ہے جب کہ کوئٹہ میں 6 کروڑ روپے مالیت کا مکان، ڈی ایچ اے کراچی میں سات کروڑ مالیت کی جائیداد ہے جو انھوں نے نیب کے حوالے کی ہے۔

ظاہر شاہ نے بتایا کہ اس جائیداد اور نقدی کے علاوہ دورانِ تفتیش 11 جائیدادیں بھی نیب کے حوالے کی ہیں جن کی قیمت تقریباً ایک ارب 25 کروڑ روپے ہے۔

ظاہر شاہ کے مطابق 80 لاکھ روپے مالیت کی دو قیمتیں کاریں بھی نیب کے حوالے کی گئی ہیں۔

نیب کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے صوبائی مشیرِ خزانہ خالد لانگو کے کاؤنٹریکٹر سہیل مجید شاہ نے ایک ارب روپے نیب کے حوالے کیے ہیں۔

ظاہر شاہ نے بتایا کہ مشیرِ خزانہ اور دیگر حکام کے خلاف کارروائی مکمل کر لی گئی ہے اور جلد عدالت میں مقدمہ دائر کیا جائے گا

اسی بارے میں