سینیٹ میں نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا ترمیمی بل 2016 منظور

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جمعرات کے روز سینیٹ کے اجلاس میں یہ ترمیمی بل وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف کی جانب سے وزیرِ مملکت برائے داخلہ محمد بلیغ الرحمن نے پیش کیا۔

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا ترمیمی بل 2016 منظور کر لیا گیا ہے جس میں سروس رولز میں ترامیم کی گئی ہیں۔

اِس کے نافذ العمل ہو جانے کے بعد ادارے کے تحت کام کرنے والے افراد کو سرکاری ملازم تصور نہیں کیا جائے گا بلکہ اُنھیں مالک اور ملازم کے نظریے کے تحت کنٹرول کیا جائے گا۔

جمعرات کے روز سینیٹ کے اجلاس میں یہ ترمیمی بل وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف کی جانب سے وزیرِ مملکت برائے داخلہ محمد بلیغ الرحمن نے پیش کیا۔

نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے ترمیمی بل 2016 میں فنڈز جاری کرنے کے اختیارات فنانس ڈویژن سے وفاقی حکومت کو منتقل کردیے گئے ہیں اور وفاقی حکومت مقامی اور بین الاقوامی کرنسی میں فنڈز فراہم کر سکے گی۔

ترمیمی بل کی مخالفت میں پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے تجویز دی کہ ادارے کے تحت کام کرنے والے ملازمین کی عزتِ نفس کو مجروح نہ کیا جاتا اور کسی بھی حساس معاملے میں خصوصی ٹریبونل قائم کردی جاتی ہے اور اُس کی سماعت میڈیا کے سامنے نہیں لائی جاتی۔

اُن کا کہنا تھا کہ اُن کی لاکھ مخالفت کے باوجود یہ بل منظور ہوگا لیکن وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ 'جو پیچ رکھتے ہیں دستار کے بیچ ہم نے اُن کے سر گرتے دیکھے ہیں بازار کے بیچ۔‘

اِس پر چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کہا کہ اِس ایوان میں سب اپنے ضمیر کے مطابق کام کرتے ہیں لیکن قانون اور ضابطے کے مطابق اِس قانون کو ایوان میں منظوری کے لیے پیش کرنا ہوگا۔

سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ اِس ترمیمی بل پر قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع دونوں میں تفصیلی بحث ہوئی ہے اور اس کے تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لیا گیا ہے جس کے بعد اِسے ملک کے عین مفاد میں جان کر سینیٹ میں پیش کیا گیا ہے۔

پوائنٹ آف آرڈر پر گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا ’میرے دل درد اُٹھتا ہے‘ کہ اربوں روپے کی بدعنوانی میں ملوث شخص کو پلی بارگین کر کے چھوڑ دیا گیا۔ اُنھوں نے کہا کہ نیب کا ادارہ کرپشن کو ختم نہیں کر رہا بلکہ بڑھا رہا ہے۔

چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے اِس پر رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ بڑا سنگین ہے اور اِس سے مجھے بڑا دکھ ہوا ہے کہ ’احتساب کا انتظام فیل ہوگیا ہے۔‘ اُنھوں نے نیب آرڈیننس 1999 کی پلی بارگین سے متعلق شق کو سٹینڈنگ کمیٹی برائے قانون کے سپرد کیا کہ اُس پر سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں غور کیا جائے اور تجاویز دی جائیں کہ اُس کا غلط استعمال کیسے روکا جائے یا اُسے ختم کر دیا جائے۔

اِس کی رپورٹ اگلے سال سینیٹ کے نو جنوری کے سیشن میں پیش کی جائے گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں