’انسدادِ دہشت گردی کا قومی ادارہ غیر فعال نہیں‘: بلیغ الرحمن

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ وزیرِ داخلہ کے ردِ عمل کے بعد یقین ہوگیا ہے کہ داخلی سیکیورٹی پر سمجھوتہ کیا جا رہا ہے

پاکستان کے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ کو بتایا گیا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت گذشتہ دو سالوں کے دوران فورتھ شیڈول میں شامل 8309 افراد کو گرفتار، 6577 افراد کے پاسپورٹس منسوخ، 4000 سے زیادہ کے بینک اکاونٹس منجمد اور 30 کروڑ سے زیادہ کی رقم برآمد کی گئی ہے۔

جمعرات کے روز اسلام آباد میں سینیٹ کے اجلاس میں آٹھ اگست کو سول ہسپتال کوئٹہ پر ہونے والے حملے پر تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ پر بحث کے دوران وزیرِ مملکت برائے داخلہ محمد بلیغ الرحمن نے بتایا کہ ایوان میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت کچھ نہیں ہو رہا اور انسدادِ دہشت گردی کا قومی ادارہ غیر فعال ہے جو کہ درست نہیں۔

اُنھوں نے بتایا کہ فورتھ شیڈول میں شامل تمام صوبوں کے افراد کی فہرست آئی ایس آئی اور آئی بی آپس میں بانٹ رہے ہیں اور اس پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے کہ سرکاری آسامیوں میں کوئی فورتھ شیڈول سے متاثرہ شخص بھرتی نہ ہو سکے۔

اُنھوں نے بتایا کہ کالعدم تنظیموں کے اسلام آباد میں ہونے والے جس جلسے کی بات کی جارہی ہے وہ گذشتہ پانچ سالوں سے شہدا فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام ہو رہا ہے جس میں کشمیر کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔

اِس بار اُس جلسے میں چند کالعدم تنظیموں کے ارکان اور رہنماؤں نے بھی شرکت کی جس کا پولیس نے نوٹس لیا اور مقدمہ تھانہ آبپارہ، اسلام آباد میں درج کرا دیا گیا ہے۔

بلیغ الرحمن نے بتایا کہ شناختی کارڈ ہونا ملزم اور مجرم دونوں کا حق ہے اور اگر وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان اِس حوالے سے کسی گروپ سے ملے اور اُن کی بات مانی تو یہ درست قدم تھا۔

وزیرِ مملکت برائے داخلہ نے بتایا اگر کسی ایجنسی کی جانب سے کسی تنظیم کے بارے میں معلومات ملتی ہیں تو اُس کی تصدیق کرائی جاتی ہے۔ انھوں نہ کہا کہ اگر ٹوئٹر پر کسی تنظیم نے کسی حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے تو اُسے صرف اُس بنیاد پر غیر قانونی نہیں قرار دے سکتے البتہ تصدیق کے بعد جماعت الاحرار اور لشکرِ جھنگوی العالمی کو اسی سال 11 نومبر کو غیر قانونی تنظیموں کی فہرست میں شامل کر دیا تھا۔

محمد بلیغ الرحمن نے بتایا کہ نیکٹا غیر فعال نہیں بلکہ اُسے فعال کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ 14-2013 کے دوران نیکٹا بجٹ نو کروڑ روپے تھا جو 17-2016 کے دوران بڑھا کر ڈیڑھ ارب سے زیادہ کر دیا جائے گا۔

انھوں نے بتایا کہ نفرت انگیز تقاریر کے الزام میں پورے ملک میں ’1365 مقدمات درج کیے گئے ہیں، 2454 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور 70 دکانیں سیل کی گئی ہیں جبکہ 1560 افراد کو لاؤڈ سپیکر کے غیر قانونی استعمال پر گرفتار اور جرمانے کیے گیے ہیں۔‘

بلیغ الرحمن نے سینیٹ کو بتایا کہ پنجاب اور اسلام آباد میں مدرسوں کی سو فیصد جیو ٹیگنگ مکمل ہو چکی ہے جبکہ ملک بھر سے اب تک 2325 مدرسے بند کیے جا چکے ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ فرقہ ورانہ قتل میں بھی خاطر خواہ کمی آئی ہے جو 2012 میں 185 تھے اور اب 2016 میں کم ہو کر 34 رہ گئے ہیں۔

آٹھ اگست کو سول ہسپتال کوئٹہ میں ہونے والے حملے پر کمیشن کی رپورٹ پر بحث کا آغاز سینیٹ میں قائد حزبِ اختلاف سینیٹر اعتزاز احسن نے کیا اور کہا کہ 110 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں اگر کسی کا نام آجائے تو اخلاقی اور پارلیمانی طریقہ یہ ہے کہ وہ استعفیٰ دے لیکن ایسا نہیں ہوا۔

اُنھوں نے کہا کہ مسلم لیگ نون کی عدلیہ سے متعلق ایک تاریخ ہے اور جو کلمات وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اُس رپورٹ کے مصنف جسٹس فائر عیسی کے بارے میں کہے اُن سے لگتا ہے کہ ’یہ سپریم کورٹ کو بھی تقسیم کریں گے، رپورٹ کے بارے میں خدشہ ہے کہ سپریم کورٹ پر مشکل وقت آنے والا ہے اور جسٹس ثاقب نثار کے لیے بھی ایک امتحان ہے۔ ‘

سینیٹر سسی پلیجو نے کہا کہ رپورٹ آنے کے بعد وزیرِ داخلہ اپنی ’میں‘ سے باہر ہی نہیں نکل رہے۔ 'انسدادِ دہشت گردی کے قومی ادارے کی کارکردگی کے بارے میں آج تک کوئی جواب نہیں دیا۔‘

سینیٹر طاہر مشہدی نے کہا کہ دنیا میں کہیں ایسی رپورٹ آتی ہے تو حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ دی جاتی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ’کالعدم تنظیموں کے سربراہوں کو گارڈز دیے ہوئے ہیں جو ہمارے بچوں کے گلے کاٹ رہے ہیں۔‘

سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ وزیرِ داخلہ کے ردِ عمل کے بعد یقین ہوگیا ہے کہ داخلی سیکیورٹی پر سمجھوتہ کیا جا رہا ہے اور وزیرِ داخلہ غیر قانونی تنظیموں کے لیے ہمدردی رکھتے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ ’اگر ہمیں داخلی سیکیورٹی کو برقرار رکھنا ہے تو وزیرِ داخلہ کو استعفیٰ دینا ہوگا ورنہ اُنہیں باہر کیا جائے۔‘

قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے اعتراض کیا کہ ایوان میں قرارداد رپورٹ پر بحث کے لیے منظور ہوئی تھی لیکن صرف وزیرِ داخلہ کے خلاف غبار نکالا جا رہا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ’جس آدمی کے خلاف رپورٹ آنے سے پہلے اور بعد میں بات کی جا رہی ہے کیا اُسے صفائی دینے کا حق بھی نہیں۔‘

سینیٹر جہانزیب جمالدینی نے توجہ دلائی کہ ایوان کی بلوچستان کے معاملے میں بحث میں دلچسپی نہیں ہے، کورم ہی بڑی مشکل سے گھنٹیاں بجا کر پورا کیا گیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ’میں اِس واقعے میں اپنا بیٹا کھو چکا ہوں، آئندہ کسی کا بیٹا نہ کھوئے اِس کے لیے کیا کیا جا رہا ہے کچھ نہیں ہم وقت ضائع کر رہے ہیں۔‘

سینیٹر کاکڑ نے بتایا کہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزارتِ داخلہ میں قیادت کا فقدان ہے، سمت غیر واضح ہے، افسر شاہی کام کے بجایے خوش آمد میں لگے ہیں اور وزارتِ داخلہ کو اپنے کردار کا علم نہیں۔

اُن کے مطابق اِس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وزیرِ داخلہ ایوان کو معلومات دے رہے تھے وہ صحیح نہیں تھیں اور اِس پر وزیر داخلہ کو ایوان سے معافی مانگنی چاہیے۔

حکمراں جماعت کے سینیٹر نہال ہاشمی نے سوال کیا کہ جن ممبران نے اِس موشن کو ایوان میں پیش کیا تھا اُن میں سے کوئی ایوان میں نہیں، کیا ہم لاشوں کی سیاست کر رہے ہیں؟ ’آج استعفے کی بات کرنے والے کاش اسامہ بن لادن کے خلاف ایبٹ آباد آپریشن کے بعد بھی کسی سے استعفے کا مطالبہ کرتے۔‘

سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا ایبٹ آباد کے واقعے کے اگلے دن اُس وقت کے صدر کا ایک مضمون امریکی اخبار میں چھپا تھا جس میں حملے کو فتح مبین کا نام دیا گیا تھا۔ ’اُس وقت کسی نے استعفے کی بات نہیں کی اور تمام پارٹیاں کسی نہ کسی صوبے میں حکومت میں ہیں اپنے گریبان میں جھانکیں۔ ’اورنگزیب فاروقی سندھ میں الیکشن لڑے تو کوئی بات نہیں۔‘

سینیٹر تاج حیدر نے جسٹس فائر عیسی کی رپورٹ میں چند مثبت باتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا جب واقعات کی پیشگی اطلاعات تھیں اور کوئی کارروائی نہیں کی گئی تو شکوک و شبہات نے جنم لیا۔

چیئرمین سینیٹ نے ایوان میں موضوع پر بحث کے دوران کم حاضری پر کہا کہ ’ہم خود پارلیمنٹ کو کمزور کر رہے ہیں۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں