یہ ٹرین اچھی ہے، مگر ہمیں تخفظ چاہیے!

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption صرف عیسائی ہی عدم تحفظ کا شکار نہیں بلکہ ملک میں ہر غریب ہی عدم تحفظ کا شکار ہے: خواجہ سعد رفیق

راولپنڈی کی رہائشی مسیحی خاتون صائمہ اسلام آباد کے مارگلہ سٹیشن پر کرسمس کے لیے نمائشی ٹرین دیکھنے آئی ہیں۔ ٹرین کے ایک فلوٹ پر اپنے بچوں کو سانتا کلاز دکھاتے ہوئے صائمہ کے چہرے پر خوشی اور خوف کے ملے جلے جذبات تھے۔

بی بی سی کو اپنے تاثرات بتاتے ہوئے وہ کہتی ہیں: ’آج محسوس ہو رہا ہے کہ ہم بھی اسی دیس کے باسی ہیں۔'

عدم تحفظ کی شکار اقلیتی کمیونٹی کے لوگوں کو پہلی بار ان کے تہوار کی خوشی میں ایسی تقریب کا انعقاد ناقابل یقین لگ رہا تھا۔

'ہمارا ملک ایک ہے، اس لیے مسلمان، عیسائی ، ہندو یا سکھ کی کوئی بحث نہیں، ہم ایک ہیں۔ یہ نمائشی ٹرین اچھی ہے مگر مسیحی کمیونٹی سمیت تمام اقلیتوں کو تحفظ ملنا چاہیے۔‘

کرسمس کے موقع پر مسیحی کمیونٹی سے اظہار یگانگت کے لیے پاکستان میں پہلی بار کرسمس امن ٹرین چلائی جارہی ہے۔ مگر ملک کے کئی شہروں میں اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے واقعات بھی معمول بن گئے ہیں۔

عدم تحفظ کا شکار یہ غیر مسلم اپنا ہی ملک چھوڑنے پر مجبور پو جاتے ہیں۔ جو ملک نہیں چھوڑ سکتے، وہ یا تو نقل مکانی کرتے ہیں یا انھیں علاقہ بدر کر دیا جاتا ہے۔

اسی تقریب میں جب وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق سے پوچھا گیا کہ ٹرین تو چل پڑی مگر اقلیتوں کے تحفط کے لیے کیا کیا؟ تو جواب ملا کہ ’مسلمان یا عیسائی کی کوئی قید نہیں، ملک میں تو ہر غریب ہی عدم تحفظ کا شکار ہے۔‘

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے گزشتہ روز ہی پاکستان میں توہین مذہب قانون کے اثرات" نامی رپورٹ میں توہین مذہب کے قوانین کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سزائے موت کے خاتمے کے ساتھ ساتھ ان قوانین فوری اصلاحات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کی 2016 کی عالمی رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس پاکستان کی عدالتوں میں کم از کم انیس افراد سزائے موت کے قیدی ہیں۔ جبکہ سینکڑوں افراد توہین مذہب کے الزام میں قید اپنے مقدمات کی سماعت کے آغاز کا انتظار کر رہے ہیں۔

تاہم اسی حوالے سے بات کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق کہتے ہیں کہ 'پیغمبر اسلام کی توہین کی سزا موت ہی ہے، مگر 295 کی محض ایک ہی شق یعنی سی نہ دیکھی جائے۔ جو شخص کسی اور مقدس کتاب یا پیغمبر کی توہین کرے ، اس کے لیے بھی یہی سزا ہے۔'

لیکن کرسمس امن ٹرین کی افتتاحی تقریب میں آئے صائمہ جیسے بہت سے غیر مسلم حقیقی امن کی خواہش لیے بیٹھے ہیں کہ سزا ختم نہیں ہو سکتی تو قوانین کا غلط استعمال ہی روک دیا جائے۔

جیسا کہ تقریب میں شریک مسیحی خاتون سوزینا کہتی ہیں : 'یہ نمائش بہت خوش آئند ہے ، مگر کیا ہی اچھا ہو کہ اقلیتوں کے تحفظ اور حقیقی امن کےلیے کچھ عملی اقدامات بھی کیے جائیں، پھر نہ تو کوئی کرسچن رہے گا، نہ کوئی مسلم، نہ سکھ ، نہ ہی سندھی اوربلوچی۔ سب ایک ہو جائیں گے۔ '