ہپی، جوگی اور جیالے

Image caption وسیم الدین کا کہنا تھا کہ وہ مسکراہٹیں بکھیرنے آئے ہیں۔

پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف سے مشہابت رکھنے والے وسیم الدین بھی جمعے کو پاکستان پیپلز پارٹی کے جلسے میں موجود تھے، جہاں سابق صدر آصف علی زرداری کے استقبال کے لیے آنے والے کارکن بڑے شوق سے ان کے ساتھ تصاویر لیتے رہے۔

میں نے ان سے سوال کیا کہ آپ کو ڈر نہیں لگتا کیونکہ پیپلز پارٹی بے نظیر بھٹو کے مقدمے میں جنرل مشرف کو بھی شامل کرنے کا مطالبہ کرتی آئی ہے اور آپ کی شکل ان سے ملتی۔ اس کے جواب میں انھوں نے پرویز مشرف کا ہی جملہ دھراتے ہوئے کہا کہ ’میں کسی سے نہیں ڈرتا۔‘

گٹارسٹ گام راج جناح ہپستال کراچی سے آئے تھے۔ اپنے طرزِ لباس کی وجہ سے وہ بھی لوگوں میں مقبول تھے۔ ان کے بال ہپیز کی طرح لمبے تھے اور سر پر انھوں نے بے نظیر بھٹو کی تصویر کا تاج پہن رکھا تھا جبکہ ہاتھ میں کسی جانور کا سینگ لیے ہوئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ غریب پیپلز پارٹی کا خیال رکھتے ہیں اور جب پیپلز پارٹی اقتدار میں آتی ہے تو اس کو بھی غریبوں کا خیال رکھنا چاہیے۔

ناتھا جوگی اپنے روایتی لباس میں پیپلز پارٹی کا جھنڈہ اٹھائے چل رہے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کے شیدائی ہیں، ان کا زرداری سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ بقول ان کے انھوں نے کبھی پارٹی سے کچھ مانگا ہی نہیں تو دیں گے کیسے ٹھٹہ میں زمینیں بٹ رہی تھیں لیکن انھوں نے وہ لینا بھی گوراہ نہیں سمجھی۔

Image caption گٹارسٹ گام راج جناح ہپستال کراچی سے آئے اور اپنے طرزِ لباس کی وجہ سے وہ بھی لوگوں میں مقبول تھے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے جھنڈہ کا مکمل لباس پہنے ہوئے اختر لاہوری نے بتایا کہ ان کا تعلق تو لاہور سے ہے لیکن 1977 میں ذوالفقار علی بھٹو کے عشق میں سندھ آگئے اور اب جب تک زندہ ہیں اسی لباس میں پارٹی کی ہر تقریب میں شرکت کرتے رہیں گے۔

اختر لاہوری کا ماننا ہے کہ پیپلز پارٹی کو سازشیں اور انتخابات میں دھاندلی کر کے لاہور سے نکالا گیا ہے، ورنہ وہ ایک مقبول جماعت ہے اور دوبارہ وہ بلاول کی قیادت میں مقبول ہوگی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے جلسے میں پینے کے لیے منرل واٹر اور کھانے کے لیے بریانی وافر مقدار میں موجود تھی۔ بعض پانی کی بوتلوں پر بلاول بھٹو کی تصاویر لگی ہوئی تھیں۔

پیپلز پارٹی کلچرل ونگ کے رہنما ارشاد شیروانی کا کہنا تھا کہ 1988، 1993 اور گذشتہ سال کے جلسے میں بھی کھانے کا انتظام تھا۔ یاد رہے کہ یہ وہ عرصہ ہے جب پاکستان پیپلز پارٹی سندھ میں اقتدار میں تھی۔ ایک دوسرے کارکن نے بتایا کہ پہلے ہر بس کے ساتھ بریانی کی دیگ چڑہائی جاتی تھی اب یہاں لنگر ہوتا ہے۔

Image caption پاکستان پیپلز پارٹی کے جھنڈہ کا مکمل لباس پہنے ہوئے اختر لاہوری نے بتایا کہ ان کا تعلق تو لاہور سے ہے لیکن 1977 میں ذوالفقار علی بھٹو کے عشق میں سندھ آگئے

جلسے کے رضاکار کارکنوں نے بلاول بھٹو کی تصاویر والی ٹی شرٹس پہن رکھتی تھیں جبکہ کراچی کے علاوہ دیگر شہروں سے آنے والے کارکنوں نے مقامی صوبائی وزیر یا رکن قومی اسمبلی کی تصویر والی ٹی شرٹس قمیض کے اوپر پہن رکھی تھیں۔

گل محمد نے اپنے گلے میں بلاول، آصف زرداری اور بے نظیر کی تصاویر والے کئی کارڈ ڈال رکھے تھے۔ وہ آغا سراج کی مالی معاونت سے یہاں آئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلاول وزیر اعظم بنے گا اور انھیں ملازمتیں ملیں گی۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے ایک بیٹے کو چوکیداری ملی ہے جبکہ دو ابھی بیروزگار ہیں۔

اس جلسہ گاہ کی سیکیورٹی کے انتظامات پولیس اور پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے سنبھال رکھے تھے جبکہ رینجرز اہلکار نظر نہیں آئے۔

بزرگ ظفر چیمہ نے اپنے سینے پر پاکستان پیپلز پارٹی کا جھنڈہ پینٹ کرایا تھا جس پر ویلکم آصف علی زرداری تحریر تھا وہ گجرانوالہ سے پارٹی قیادت سے محبت کا اظہار کرنے آئے تھے۔

ٹرمینل ٹو کی مرکزی شاہرہ پر جلسے گاہ میں خواتین کے لیے جگہ مختص نہیں کی گئی جس وجہ سے خواتین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی دوران جلسہ واپس چلی گئیں جبکہ دو درجن کے قریب عیسائی کمیونٹی کی لڑکیاں بھی جلسے میں پہنچیں جن میں سے بعض نے سانتا کلاز کی ٹوپی پہن رکھی تھیں۔

اس جلسے میں پیپلز پارٹی کے پرانے سیاسی نغموں کے علاوہ آصف علی زرداری کی شان میں گائے گئے نغمے بھی بجائے گئے، جن میں ’خطروں کا کھلاڑی زرداری‘ اور ’شیروں کا شکاری زرداری‘ بھی شامل تھا۔

اسی بارے میں