’کمیشن کو نااہلی کیس کی سماعت کا اختیار نہیں‘

عمران خان تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے خلاف الیکشن کمیشن آف پاکستان میں نااہلی کے ریفرنس کی سماعت منگل کے روز تک کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔

پیر کے روز الیکشن کمیشن آف پاکستان میں قومی اسمبلی کے سپیکر کی جانب سے عمران خان کے خلاف بھیجے گئے ریفرنس کی سماعت ہوئی جس میں تحریکِ انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے اپنے دلائل مکمل کر لیے۔

نعيم بخاری نے الیکشن کمیشن کی اہلیت پر سوال اُٹھاتے ہوئے کہا کہ بنی گالہ کی اراضی سنہ 2003 میں خریدی گئی تھی اور انتخابات سے قبل کے معاملات کاغذات نامزدگی کے وقت اٹھائے جا سکتے تھے۔ اُنھوں نے کہا کہ اگر عمران خان پرالزامات درست مان بھی ليے جائيں تو بھی اليکشن کميشن کو اِس معاملے کی سماعت کا اختیار نہیں۔

الیکشن کمیشن میں عمران خان کے خلاف نااہلی ریفرنس کی سماعت میں چيف اليکشن کمشنر نے کہا کہ 'ہمارے پاس دو موقف ہيں، پہلا یہ کہ معاملہ سيشن جج کوبھيجيں کہ وہ ٹرائل کریں اور اُن کی رپورٹ پر الیکشن کمیشن فیصلہ کرے اور دوسرا یہ کہ الیکشن کمیشن خود صادق اور امین کا فيصلہ کرے۔'

اپنے دلائل کے دوران حکومتی وکیل اکرم شيخ نے جہانگيرترين نااہلی کيس کا محفوظ فيصلہ سنانے کی درخواست کی جس پرچيف اليکشن کمشنرنے کہا کہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا گیا ہے۔

اکرم شیخ نے الیکشن کمیشن کے سامنے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کی خلاف ورزی کرنے اور غلط ڈیکلریشن جمع کرانے پر الیکشن کمیشن عمران خان اور جہانگیر ترین کو نااہل قرار دے سکتا ہے۔

اکرم شيخ نے عمران خان اورجہانگير ترين کے کيسوں کو يکجا کرنے کی بھی درخواست کی اور مزید دلائل دینے کے لیے عدالت سے وقت مانگا جس پر سماعت کل تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

اسی بارے میں