بلوچستان: لاپتہ افراد یا قبائلی تنازعات؟

صوبہ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے رواں سال بھی تشدد زدہ لاشوں کی برآمد گی کا سلسلہ جاری رہا۔

حکومت پاکستان کی وزارت برائے حقوق انسانی کے مطابق رواں سال کے دوران مختلف علاقوں سے 70 کے لگ بھگ تشدد زدہ لاشیں برآمد کی گئیں۔

بلوچستان میں 2007 سے لے کر اب تک جو لاشیں برآمد ہوتی رہی ہیں ان میں جلیل ریکی کی بھی لاش شامل تھی۔

ان کی والدہ کا کہنا ہے کہ جلیل ریکی کو 2009 تین گاڑیوں میں آئے لوگ سریاب میں واقع ان کے گھر سے لے گئے۔

'بعد میں ہمارے رشتہ داروں نے سابق وزیر اعلیٰ نواب اسلم رئیسانی سے رجوع کیا لیکن وہاں سے بھی ہمیں کوئی جواب نہیں ملا۔'

اگر چہ جلیل ریکی کو کوئٹہ سے اٹھایا گیا تھا لیکن ان کی تشدد زدہ لاش 2011 میں اندازاً ایک ہزار کلومیٹر دور ایران سے متصل بلوچستان کے ضلع کیچ سے برآمد ہوئی۔

ان کی والدہ کا کہنا تھا 'جلیل کی لاش خستہ حالت میں تھی۔ ان کے سینے میں تین اور سر میں ایک گولی ماری گئی تھی۔ ان کے پیٹھ پر سگریٹ سے کے نشان تھے اور ان کے ہاتھ بھی ٹوٹے ہوئے تھے۔ ان کی لاش مند کے علاقے سے برآمد کی گئی'۔

ایک قبائلی معاشرہ ہونے کے ناطے بلوچستان میں قبائلی لڑائیوں میں لوگوں کی ہلاکتیں ہوتی رہتی ہیں۔ اگر قبائلی تنازعات میں کوئی مارا جاتا ہے تو مارنے والا اس کی ذمہ داری قبول کرتا ہے یا مارے جانے والوں کے رشتہ داروں کو قاتلوں کے بارے میں پتہ چل جاتا ہے۔

لیکن تشدد زدہ لاشیں پھینکنے کا رجحان بلوچستان میں کبھی نہیں رہا۔ لاشوں کی برآمدگی کے خلاف نہ صرف بلوچ قوم پرست جماعتوں اور تنظیموں بلکہ لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم کی جانب سے بھی احتجاج کیا جاتا رہا۔

ان کی جانب سے یہ الزام عائد کیا جاتا رہا کہ تشدد زدہ لاشوں میں سے زیادہ تر ان لوگوں کی تھیں جن کو 'جبری طور پر لاپتہ' کیا گیا۔

لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنزکے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ 'آئے روز بلوچستان سے لاشیں ملتی ہیں۔ آپریشنوں میں عسکریت پسندوں کو مارنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے لیکن یہ ان لوگوں کی لاشیں ہوتی ہیں جن کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔'

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں حالات کی خرابی کے بعد بلوچستان میں بد امنی کے کئی پہلو سامنے آئے لیکن تشدد زدہ لاشوں کی برآمدگی کا سلسلہ 2007 میں شروع ہوا۔ تاہم ان کی برآمدگی میں تیزی 2007 کے بعد آئی۔

شروع میں جو لاشیں برآمد ہوتی رہیں پولیس اور دیگر متعلقہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کی برآمدگی کے مقدمات درج نہیں کرتے رہے۔

Image caption اگرچہ قوم پرست جماعتوں اور وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے لاشوں کی برآمدگی کے حوالے سے ریاستی اداروں کو ذمہ دار ٹھہرایا جارہا ہے۔ لیکن حکومت بلوچستان کے ترجمان انوار الحق کاکڑ نے اس الزام کو بے بنیاد قرار دیا

سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے ایک بینچ کی جانب سے حکم صادر ہونے کے بعد 2010 سے لاشوں کی برآمدگی سے متعلق مقدمات کے اندراج کا سلسلہ شروع ہوا۔

نصراللہ بلوچ کا کہنا ہے کہ 'سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں ہونے والی تحقیقات میں کئی شواہد سامنے آئے۔ ان کے بقول پولیس نے سپریم کورٹ کے حکم پر جو تحقیقات کیں تو اس میں ریاستی اداروں کے خلاف شواہد سامنے آئے اسی طرح کے شواہد جوڈیشل انکوائری کے نتیجے میں سامنے آئے'۔

حکومت پاکستان کی وزارت برائے حقوق انسانی کے مطابق گذشتہ چھ سالوں میں 2011 میں 201، 2012 میں 161، 2013 میں 154 جبکہ اس سے اگلے سال یعنی 2014 میں 207 لاشیں ملیں۔ آخری دو سالوں میں بھی 2013 لاشیں مختلف علاقوں سے ملیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک گذشتہ چھ سال کے دوران ایک ہزار سے زائد لاشیں برآمد کی گئیں۔ لیکن وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ ان کے پاس باقاعدہ رجسٹرڈ شدہ تشدد زدہ لاشوں کی تعداد 1200 ہے تاہم ان کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

حکومت پاکستان کی وزارت برائے حقوق انسانی کے مطابق گذشتہ پانچ سالوں میں سب سے زیادہ لاشیں دارالحکومت کوئٹہ، خضدار، قلات اور مکران سے ملی ہیں۔

لاشیں ملنے کا یہ سلسلہ اکثر بلوچ علاقوں میں جاری ہے لیکن صوبے کے پشتون آبادی کے شمالی خطے سے بھی لاشیں ملتی رہی ہیں۔

اگرچہ قوم پرست جماعتیں اور وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے لاشوں کی برآمدگی کے حوالے سے ریاستی اداروں کو ذمہ دار ٹھہرایا جارہا ہے۔ لیکن حکومت بلوچستان کے ترجمان انوار الحق کاکڑ نے اس الزام کو بے بنیاد قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے کئی وجوہات ہیں جن میں دہشت گردوں کی جب سکیورٹی فورسز سے جھڑپ ہوتی ہے تو ان کی لاشیں کچھ وقت بعد برآمد ہوتی ہیں۔ ان کا تعین نہیں ہوتا ہے۔ یہ بھی ٹرینڈ سامنے آیا ہے کہ دہشت گرد گروہ آپس میں لڑتے ہیں اور ایک دوسرے کے لوگوں کو جب مارتے ہیں تو وہ اپنی لاشیں نہیں دفناتے۔ کچھ قبائلی تنازعات، منظم کرائم اور ڈرگ مافیا بھی ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

حکومت کے ترجمان نے ریاستی اداروں پرلاشیں پھینکنے کے الزام کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں 'بلوچستان سے ہر سال ایک بڑی تعداد میں ایسی لاشیں بھی ملتی ہیں جن کی شناخت نہیں ہو پاتی۔ ان میں غیرملکیوں کی بھی لاشیں شامل رہی ہیں۔ غیر ملکیوں میں ازبک اور افغانوں کی لاشیں بھی بلوچستان سے برآمد ہوچکی ہیں۔‘

حقوق انسانی کی ملکی اور غیر ملکی تنظیموں کی جانب سے بلوچستان سے تشدد زدہ لاشوں کی برآمدگی پر نہ صرف تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے بلکہ اسے حقوق انسانی کی سنگین پامالی بھی قرار دیا جارہا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں