جہلم میں پاکستانی نژاد جرمن خاتون کا قتل، شوہر گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ AP

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر جہلم میں پولیس نے ایک پاکستانی نژاد جرمن خاتون کے قتل کے الزام میں ان کے شوہر کو حراست میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

گجرات کے علاقے کھاریاں کی رہائشی قمر النسا نے جہلم پولیس میں رپورٹ کرائی ہے کہ ان کی بہن عظمیٰ خان اپنے شوہر اور بیٹے کے ہمراہ پاکستان آئی ہوئی تھیں جب ان کو قتل کیا گیا۔

ایف آئی آر کے مطابق ڈاکٹر عظمیٰ خان جرمنی کی شہریت رکھتی تھیں۔

ان کی بہن کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عظمیٰ اپنے شوہر شہباز علی اور بیٹے عمار کے ہمراہ سہ پہر تین بجے اپنے جاننے والے کے گھر گئے اور شام پونے چھ بجے شہباز نے فون پر اطلاع دی کہ عظمیٰ کا گرنے سے انتقال ہو گیا ہے۔

ڈاکٹر عظمیٰ کی بہن قمر النسا نے ایف آئی آر میں کہا ہے کہ وہ شہباز کے فون کے بعد ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال جہل پہنچیں تو ڈاکٹر عظمیٰ کی لاش پڑی تھی۔

'ڈاکٹر عظمیٰ کے سینے اور سر پر چوٹ کے نشانات تھے۔‘ انہوں نے الزام عائد کیا کہ شہباز اور دیگر افراد نے ان کی بہن کو گولیاں مار کر ہلاک کیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں