کتب خانوں اور کتب بینی میں کمی

Image caption پشاور میں گذشتہ تقریباً دو تین سالوں کے دوران کتب فروخت کرنے کی 17 دکانیں بند ہوچکی ہیں

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں گذشتہ تقریباً دو تین سالوں کے دوران کتب فروخت کرنے کی 17 دکانیں بند ہوچکی ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ شہر میں حال ہی میں ایک نئی کتابوں کی دکان بھی کھلی ہے جسے کتاب بینی کے فروغ کےلیے اچھا اقدام قرار دیا جارہا ہے۔

بی بی سی فیس بک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے پشاور یونیورسٹی میں شعبہ بین الاقوامی تعلقات عامہ کے پروفیسر ڈاکٹر حسین شہید سہروردی نے کہا کہ بدقسمتی سے خیبرپختونخوا اور بالخصوص پشاور میں کتاب بینی کی عادت تیزی سے ختم ہوتی جارہی ہے جس کا واضع ثبوت یہاں پر کتابوں کی دکانوں کا بند ہونا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایک زمانہ تھا کہ پشاور میں پبلک کتب خانوں کی تعداد زیادہ تھی اور شہر کے لوگ لائبریوں اور ریڈنگ رومز میں بیٹھ مطالعہ کیا کرتے تھے۔

انھوں نے کہا کہ اب تو نجی تعلیمی اداروں نے اپنے سکولوں میں کتابوں کی دکانیں کھول رکھی ہے جبکہ ملک بھر میں عوامی مقامات پر کتب خانوں کی روایت بھی ختم ہوگئی ہے جس سے کتابیں پڑھنے کا رحجان دم توڑ رہا ہے۔

Image caption پروفیسر حسین شہید کے مطابق 'جن جگہوں پر کتابوں کی دکانیں بند ہوئی ہیں وہاں اب ہوٹلز اور دیگر کھانے پینے کی اشیا کی دکانیں بن گئی ہیں

پروفیسر حسین شہید کے مطابق 'جن جگہوں پر کتابوں کی دکانیں بند ہوئی ہیں وہاں اب ہوٹلز اور دیگر کھانے پینے کی اشیا کی دکانیں بن گئی ہیں جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہمیں کتابوں کو پڑھنے سے زیادہ پیٹ کی فکر لاحق ہے۔'

انھوں نے کہا کہ جب تک ہر محلے کی سطح پر عوامی کتب خانوں کا قیام عمل میں نہیں لایا جاتا اس وقت تک کتب بینی کا فروغ مشکل ہے۔ ان کے بقول یہ کام صرف حکومت کا نہیں بلکہ لوگوں، سیاسی جماعتوں اور دیگر تنظیموں کو مل کر اس کےلیے سنجیدگی سے کام کرنا ہوگا۔

پشاور یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات عامہ سے بی آیس آنررز کی ڈگری حاصل کرنے والی طالبہ رخسار گوہر نے کہا کہ کتب بینی کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ سکول کی سطح پر بچوں میں کتابیں پڑھنے کے شوق پر توجہ دینی چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ بدقسمتی سے آج کے طلبا و طالبات اور نوجوان طبقہ کتابیں پڑھنے کی بجائے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر اپنا قیمتی وقت ضائع کررہے ہیں۔

اسی بارے میں