پاناما لیکس کیس: جسٹس کھوسہ کی سربراہی میں نیا بینچ تشکیل

تصویر کے کاپی رائٹ Supreme court of Pakistan
Image caption جسٹس آصف سعید کھوسہ سپریم کورٹ کے سینئیر جج ہیں

پاکستان کی سپریم کورٹ نے پاناما لیکس سے متعلق کیس کی سماعت کے لیے پانچ رکنی بینچ تشکیل دے دیا ہے جس کی سربراہی سینئیر جج آصف سعید کھوسہ کریں گے۔

جسٹس ثاقب نثار نے چیف جسٹس کے عہدے پر فائز پر ہونے کے بعد پہلی بار عدالتی بینچ تشکیل دیے ہیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار جو پہلے بھی پاناما پیپرز سے متعلق مقدمے کی سماعت کرنے والے بینچ کا حصہ نہیں تھے اس بار بھی انھوں نے خود کو بینچ سے علیحدہ رکھا ہے۔

٭ تحریکِ انصاف تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل کی مخالف

٭ 'پارٹ ہرڈ' سے عدالت کی کیا مرادہے؟

سابق چیف جسٹس انور ظہر جمالی کی ریٹائرمنٹ کے بعد پہلی بار سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ بدھ چار جنوری کو پاناما پیرز سے متعلق تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور طارق اسد ایڈوکیٹ کی جانب سے دائر کردہ درخواستوں کی از سو نو سماعت شروع کرے گا۔

دسمبر میں سپریم کورٹ نے مقدمے کی سماعت کو جنوری کے پہلے ہفتے تک ملتوی کرنے کے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ پاناما لیکس کے مقدمات کی اب تک کی سماعت کو 'سنا ہوا مقدمہ' تصور نہ کیا جائے۔

مقدمے کی پچھلی بار سماعت کرنے والے بینج کے تین جج نئے بینچ کا بھی حصہ ہیں۔ سپریم کورٹ کا نیا بینج جسٹس آصف سیعد کھوسہ، جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس گلزار احمد، جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الحسن پر مشتمل ہو گا۔

سابقہ بینچ کے ممبران جسٹس انور ظہر جمالی ریٹائر ہو چکے ہیں جبکہ جسٹس امیر ہانی مسلم آئندہ دو ماہ میں ریٹائر ہو جائیں گے۔

دسمبر میں ہونے والی آخری سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے عدالت کو بتایا تھا کہ اُن کے موکل تحقیقاتی کمیشن نہیں چاہتے اور اگر یہ کمیشن بنا تو تحریکِ انصاف اُس کا بائیکاٹ کرئے گی۔

تحریک انصاف کے وکیل نے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ عدالت فیصلہ کرے اور اگر عدالت اِس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ ہم اپنا کیس صحیح انداز میں پیش نہیں کر پائے تو بھی فیصلہ آنے دیں اور اگر عدالت یہ سمجھتی ہے کہ وزیر اعظم کا کیس کمزور ہے تو بھی فیصلہ دیں۔

اسی بارے میں