مسعود اظہر کے خلاف قرارداد انڈیا کا سیاسی حربہ: پاکستان

پاکستان نے انڈیا کی جانب سے مسعود اظہر پر پابندیوں سے متعلق اقوام متحدہ میں جمع کروائی گئی قرارداد کو سیاسی حربہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انڈیا ایسی کوششوں سے پاکستان میں اپنی دہشتگرد کارروائیوں کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں انڈیا کی جانب سے کالعدم تنظیم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کے خلاف جمع کرائی گئی قرارداد پر چین کے اعتراض کے حوالے سے رپورٹس پر تبصرہ کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے کہا کہ داعش اور القاعدہ سے متعلق سلامتی کونسل کی پابندی کمیٹی 1267 نے انڈیا کی جانب سے سیاسی مقاصد کے لیے جمع کرائی گئی قرارداد مسترد کردی۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی قومی سلامتی کی کمیٹی رکن ممالک کی درخواست پر تنظیموں یا گروپوں پر پابندیاں لگانے سے متعلق درخواستوں کا جائزہ لیتی ہے۔

انڈیا نے اس کمیٹی میں دہشت گردی سے منسلک 11 افراد اور تنظیموں کی فہرست پیش کی تھی۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ قرارداد کو روکنا دراصل انڈیا کی جانب سے سکیورٹی کونسل کی اس اہم کمیٹی کے کام کو کمزور کرنے کی کوشش کو مسترد کرنا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ سلامتی کونسل میں انڈیا کی قرارداد بے بنیاد الزامات پر مبنی تھی جس کا مقصد اپنے معتصبانہ ایجنڈے کو آگے بڑھانا تھا۔

واضح رہے کہ انڈیا کا الزام ہے کہ جیش محمد اور اس کے سربراہ مسعود اظہر پٹھان کوٹ ایئر بیس میں ہونے والے حملے میں ملوث ہیں۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان انسداد دہشت گردی کے لیے عالمی برادری کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے، پاکستان نے خطے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR

نفیس زکریا کا کہنا تھا کہ دہشت گردی انڈیا کی ریاستی پالیسی کا حصہ ہے اور وہ دہشت گردی کرانے، دہشت گردوں کی معاونت کرنے اور وسائل فراہم کرنے میں ملوث ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ انسداد دہشت گردی کے حوالے سے انڈیا کا کردار مشکوک ہے اور پاکستان انڈیا کی ریاستی معاونت سے ہونے والی دہشت گردی کا شکار ہے۔

نفیس زکریا نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ پاکستان میں انڈین مداخلت کے مزید ثبوت اقوام متحدہ میں دیں گے، کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور اس کا اعترافی بیان انڈیا کی پاکستان میں مداخلت کا واضح ثبوت ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں