پاکستان کے آرمی چیف کو کابل دورے کی دعوت

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدہ تعلقات کو ایک بار پھر سے بہتر بنانے کے لیے پاکستانی بّری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے نئے سال کی مبارکباد کے لیے افغان صدر اشرف غنی کو فون کیا۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجنر جنرل آصف غفور نے ٹویٹ کیا کہ آرمی چیف نے صدر اشرف غنی، چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ، افغان آرمی چیف جنرل قدم شاہ رحیم کو فون کر کے نئے سال کی مبارکباد دی۔

انھوں نے کہا کہ آرمی چیف نے افغان حکام سے بات میں امن کے لیے مل کر کام کرنے کا اعادہ کیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق افغان رہنماؤں نے جنرل قمر باجوہ کو افغانستان دورے کی دعوت دی۔

واضح رہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات میں اتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملتا ہے۔

نومبر میں انڈیا کے شہر امرتسر میں ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں افغانستان کے صدر اشرف غنی نے پاکستان پر ایک بار پھر شدت پسند تنظیموں کی پشت پناہی کرنے کا الزام لگایا تھا۔

کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے افغان صدر نے کہا تھا کہ 'پاکستان نے افغانستان کے لیے پانچ سو ملین ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے، بہتر ہوگا کہ وہ اس رقم کو پاکستان کے اندر انتہا پسندی پر قابو پانے کے لیے استعمال کرے۔'

وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے پاکستان کے بارے میں دیا جانے والا بیان افسوسناک ہے تاہم افغانستان کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے اسے قابلِ فہم بھی قرار دیا تھا ۔

ان کا کہنا تھا کہ 'افغان صدر اشرف غنی کا بیان افسوسناک ہے لیکن قابلِ فہم بھی ہے کیونکہ افغانسان میں شورش بڑھی ہے، ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے، پاکستان کی نسبت دھماکوں میں اضافہ ہوا ہے۔ افغانستان میں مایوسی کی کیفیت ہے اور جب مایوسی اور گذشتہ برسوں میں اس رجحان کو دیکھیں کہ ہر حملے کا الزام پاکستان پر لگتا ہے تو پھر اس کی سمجھ بھی آتی ہے کہ اس طرح کا بیان کیوں آتا ہے۔'

اسی بارے میں